مسئلہ:
اگر کوئی شخص خود اپنے داماد کو اپنی زکوٰة کی رقم سے اعلیٰ تعلیم دلوانا چاہتا ہے اور داماد صاحب نصاب یعنی ساڑھے باون تولہ چاندی یا اتنی قیمت نقد کا مالک نہیں ہے، اور نہ ہی وہ سید ہے، تو شرعاً یہ جائز ہے، اور اس صورت میں خسر کی زکوٰة بھی ادا ہوجائے گی۔
الحجة علی ما قلنا :
ما فی ” الشامیة “ : ویجوز دفعها لزوجة أبیه وابنه وزوج ابنته۔(۲۹۳/۳، کتاب الزکوٰة، باب المصرف)
ما فی ” الفتاوی التاتارخانیة “ : ویجوز أن یعطی امرأة أبیه وابنه وزوج ابنته۔(۴۱/۲، کتاب الزکوٰة، الفصل الثانی بمن توضع فیه الزکوٰة)
ما فی ” الفقه الإسلامی وأدلته “: ویجوز دفع الزکوٰة لزوجة أبیه وإبنه وزوج ابنته (الصهر)۔ (۱۹۷۰/۳، مصارف الزکوٰة)
(فتاوی محمودیه :۲۱۱/۱۴)
