مسئلہ:
بعض حجاج کرام رمی کے وقت ساتوں کنکریاں مٹھی میں رکھ کر ایک ساتھ پھینک دیتے ہیں، ہر کنکری کو علیحدہ علیحدہ نہیں پھینکتے، اُن کا اس طرح رمی کرنا درست نہیں ہے، صحیح طریقہ یہ ہے کہ ہر کنکری علیحدہ علیحدہ ماری جائے، اگر کوئی شخص ایک سے زیادہ یا ساتوں کنکریاں ایک ساتھ ہی ماردے، تو یہ ایک ہی شمار ہو گی ، اگرچہ وہ کنکریاں علیحدہ علیحدہ گری ہوں، اور باقی چھ کنکریاں پوری کرنی ضروری ہوگی۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” البحر الرائق “ : لو رمی بسبع حصیات جملة واحدة فإنه یکون عن واحدة، لأن المنصوص علیه تفرق الأفعال۔ (۶۰۲/۲)
ما في ” رد المحتار “ : قال الشامي رحمه الله تعالی: لو رماها دفعة واحدة کان عن واحدة۔ (۵۳۱/۳، مطلب في رمي جمرة العقبة، بیروت، النهر الفائق:۸۷/۲، باب الإحرام)
ما في ” بدائع الصنائع “ : إن رمی إحدی الجمار بسبع حصیات جمیعًا دفعة واحدة فهي عن واحدة ویرمی ستة أخری، لأن التوقیف ورد بتفریق الرمیات فوجب اعتباره۔
(۱۴۷/۳، فصل في بیان سنن الحج، الموسوعة الفقهیة: ۱۵۳/۲۳)
