مسئلہ:
سانپ دو طرح کا ہوتا ہے، بحری اوربری و جنگلی، اگر بحری سانپ جس میں خون نہیں ہوتا، کنویں یا حوض میں مرجائے تو اس سے پانی ناپاک نہیں ہوگا، اور اگر برّی وجنگلی سانپ، جس میں خون ہوتا ہے، چھوٹے حوض یا کنویں میں گر کر مرجائے تو اس کے مرنے سے کنواں یا حوض ناپاک ہوجائے گا۔
الحجة علی ما قلنا :
ما فی ” الدر المختار مع الشامیة “ : وضفدع إلا بریا له دم سائل۔۔۔۔۔۔ فیفسد فی الأصح کحیة بریة، إن لها دم وإلا لا۔ ” الدر المختار “۔ وفی الشامی: قوله: (کحیة وبریة) أما المائیة فلا تفسد مطلقاً، قوله: (وإلا لا) أی وإن لم یکن للضفدع البریة والحیة البریة دم سائل فلا یفسد۔(۳۳۱/۱، باب المیاه)
(فتاوی عثمانی: ۳۲۶/۱۔۳۲۷، فتاوی دارالعلوم:۱۹۹/۱)
