(فتویٰ نمبر:۲۲۲)
سوال:
میری سرپرستی میں مدرسے کے اندر ایک نابالغ طالبِ علم رہتا ہے، اور میرے گھر سے جو سامان کھانے پینے کا آتا ہے، تو وہ طالبِ علم کبھی کبھار اسے استعمال بھی کرتا ہے، اب ایک مرتبہ اس طالبِ علم کے گھر سے سامان آیا، تو وہ کچھ سامان لے کر میرے پاس آیا، تو کیا میرے لیے ا س کے سامان کو کھانا جائز ہے؟
الجواب وباللہ التوفیق:
نابالغ طالبِ علم کا کوئی سامان آپ کے لیے استعمال کرنا یا کھانا جائز نہیں ہے؛کیوں کہ جوازِ قبولِ ہدیہ کے لیے مُہدِی (ہدیہ کرنے والے)کا عاقل بالغ اور مالک ہونا ضروری ہے۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” الفتاوی الهندیة “ : وأما ما یرجع إلی الواهب فهو أن یکون الواهب من أهل الهبة ، وکونه من أهلها أن یکون حرًا عاقلا بالغًا مالکًا للموهوب ، حتی لو کان عبدًا ۔۔۔۔۔۔۔۔ أو کان صغیرًا أو مجنونًا ، أو لا یکون مالکًا للموهوب لا یصح، هکذا في النهایة ۔(۳۷۴/۴، کتاب الهبة، الباب الأول في تفسیر الهبة ورکنها إلخ)
ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : وتصرف الصبي والمعتوه الذي لا یعقل البیع والشراء إن کان نافعًا محضًا کالإسلام والاتهاب صح بلا إذن ، وإن ضارا کالطلاق والعتاق والصدقة والقرض ۔ (در مختار) ۔ وفي الشامیة : قال ابن عابدین الشامي رحمه اللّٰه تعالی : وکذا الهبة والصدقة وغیرهما ۔ قهستاني ۔ قوله : (لا وإن أذن به ولیهما) لاشتراط الأهلیة الکاملة ۔(۲۵۳/۹، کتاب المأذون، مطلب في تصرف الصبي)
ما في ” بدائع الصنائع “ : وأما ما یرجع إلی الواهب فهو أن یکون ممن یملک التبرع ؛ لأن الهبة تبرع فلا یملکها من لا یملک التبرع ، فلا تجوز هبة الصبي والمجنون ؛ لأنهما لا یملکان التبرع لکونه ضررًا محضًا لا یقابله نفع دنیوي ۔ (۱۶۸/۵ ، کتاب الهبة ، فصل وأما الشرائط فأنواع)
(مجمع الأنهر :۴۹۱/۳ ، کتاب الهبة) (فتاویٰ محمودیه:۱۶۵/۱۸) فقط
والله أعلم بالصواب
کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی۔۱۴۳۰/۱۵/۱ھ
