سری نماز میں جہری قرأت

مسئلہ:

اگر امام سری نماز مثلاً ظہر یاعصر میں بھول کر بلند آواز سے قرأت شروع کردے ، اور مقتدیوں کے لقمہ دینے یا خود کو یاد آنے پر خاموش ہوجائے ، تو اگر تین آیتوں سے کم قرأت کی تھی، تو سجدہٴ سہو واجب نہیں، اور اگر تین آیتوں یا اس کی مقدار قرأت کی تو سجدہٴ سہو واجب ہوگا، خواہ یہ تین آیتیں سورہٴ فاتحہ کی ہو یا ضم سورہ کی ۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” حلبي کبیر “ : ولو جهر الإمام فیما یخافت أو خافت فیما یجهر قدر ما تجوز به الصلاة یجب سجود السهو علیه وهو أي التقدیر بمقدار ما تجوز به الصلاة هو الأصح وإلا، أي وإن لم یکن ذلک مقدار ما تجوز به الصلاة فلا، أي فلا یجب علیه سجود السهو۔ (ص:۴۵۷، فصل في سجود السهو)

ما في ” الفتاوی الهندیة “ : لو جهر فیما یخافت أو خافت فیما یجهر وجب علیه سجود السهو واختلفوا في مقدار ما یجب به السهو منهما قیل یعتبر في الفصلین بقدر ما تجوز به الصلاة وهو الأصح، ولا فرق بین الفاتحة وغیرها۔

(۱۲۸/۱، الباب الثاني عشر في سجود السهو، البحر الرائق: ۱۷۱/۲، باب سجود السهو، التنویر وشرحه مع الشامیة: ۳۷۵/۲۔۳۷۶، باب سجود السهو)

(فتاوی محمودیه:۴۸۰/۱۱)

اوپر تک سکرول کریں۔