سقوطِ ترتیب کے بعد صاحبِ ترتیب کا حکم!

(فتویٰ نمبر:۵۷)

سوال:

۱-کوئی بھی آدمی صاحبِ ترتیب کب ہوگا؟

۲-اگر صاحبِ ترتیب فوت شدہ نماز کی قضا یا د ہوتے ہوئے وقتی فرض کو پڑھ لے، تو کیا اس کا یہ فرض صحیح ہوگا ؟

۳-ایک بار ترتیب ساقط ہو تو کیا دوبارہ وہ لوٹ آئے گی ؟

۴-کیا سقوطِ ترتیب کے بعد آدمی صاحبِ ترتیب ہوسکتا ہے ؟

الجواب وباللہ التوفیق:

۱-جس آدمی کے ذمہ محض چھ نمازوں سے کم یعنی پانچ ،چار، تین ، دو یا ایک نماز کی قضا باقی ہو وہ صاحبِ ترتیب ہے ، یعنی جب وہ ان نمازوں کی قضا کرے گاتو خود ان نمازوں کے درمیان ترتیب لازم ہوگی، مثلاً پہلے ظہر،بعد میں عصر ،پھر مغرب ،پھر عشا، پھر فجر کی نماز قضا کرے گا، جس طرح ان فوت شدہ نمازوں کی قضا میں ترتیب لازم ہے اسی طرح ان قضا نمازوں اور وقتی نماز (مثال میں ظہر کی نماز ہوسکتی ہے) کے درمیان ترتیب لازم ہے، یعنی پہلے ان نمازوں کی قضا کرے بعد میں وقتی نماز پڑھے ۔

۲-فوت شدہ نماز کے یاد ہوتے ہوئے وقتی نماز یعنی ظہر کی نماز پڑھتا ہے،تو اس کی ظہر کی نماز موقوف طور پر فاسد ہوگی، یعنی آئندہ دن کی فجر کی نماز بھی پڑھ لی اور فجر کا وقت نکل گیا، اور فوت شدہ نماز کی قضا نہیں کی، تو یہ پانچوں نمازیں صحیح ہوں گی، اور اگر فجر کا وقت نکلنے سے پہلے فوت شدہ نماز کی قضا کی تویہ پانچوں نمازیں نفل بن جائیں گی۔

۳-جب ترتیب ساقط ہوگئی تو اب دوبارہ نہیں لوٹے گی، مثلاً اوپر کی صورت میں جب پانچویں نماز کا وقت نکل گیا اور شخصِ مذکور نے اپنے ذمہ فوت شدہ نماز کی قضا نہیں کی، تو یہ پانچوں نمازیں صحیح ہوں گی، اب اس پر ترتیب لازم نہیں ہوگی، مثا ل کے طور پر اس کے ذمہ صرف ایک نماز کی قضا باقی رہ گئی تھی، اس کی قضا نہ کرتے ہوئے وقتی نماز پڑھ لی تو وہ بلاتوقف صحیح ہوگی، کیوں کہ اب اس پر ترتیب لازم نہیں ، اورقاعدہ ہے : ” اَلسَّاقِطُ لا یَعُوْدُ “جیسے مائے قلیل جب ناپاک ہو اور اس میں مائے جاری داخل ہونے کی وجہ سے وہ کثیر ہوجائے، تو وہ پاک ہوجاتا ہے، اب جب دوبارہ وہ اپنی حالتِ اُولیٰ، یعنی قلیل کی طرف لوٹ آئے تو اس کی نا پاکی لوٹ کر نہیں آئے گی۔

۴ -علامہ شامی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جب تما م نمازیں قضا کرلے، تو مفتیٰ بہ قول یہ ہے کہ اب اس پر از سرِ نو ترتیب لازم ہوگی (یعنی دوبارہ صاحبِ ترتیب بنے گا) مگر اس دوبارہ صاحبِ ترتیب بننے کی وجہ سے یہ نہیں کہا جائے گاکہ جو ترتیب ساقط ہوئی تھی وہ دوبارہ لوٹ آئی۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : (لا یعود) لزوم الترتیب بعد سقوطه بکثرتها ؛ أي الفوائت بعود الفوائت إلی القلة (بسبب القضاء) لبعضها علی المعتمد ؛ لأن الساقط لا یعود ۔ (در مختار) ۔ وفي الشامیة: قوله : (لأن الساقط لا یعود) وأما إذا قضی الکل فالظاهر أنه یلزمه ترتیب جدید ، فلا یقال إنه عاد ۔

(۵۲۹/۲ ، کتاب الصلاة ، باب قضاء الفوائت ، مطلب في تعریف الإعادة ، ط : بیروت) فقط

 والله أعلم بالصواب

کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی ۔۱۴۲۹/۴/۱۴ھ

اوپر تک سکرول کریں۔