مسئلہ:
اگر کسی مسلمان کا دوست غیر مسلم ہو اور وہ ا س کے ساتھ شرکت میں یعنی پارٹنر بن کر کوئی جائز کاروبار کرنا چاہتا ہے، لیکن اس غیر مسلم کے پاس رقم نہ ہونے کی وجہ سے وہ بینک سے سودی قرض لاکر لگاتا ہے، تو اس طرح کی شرکت سے احتراز کرنا چاہیے، تاہم! اگر مسلمان اس کے ساتھ مل کر کاروبار کرتا ہے، تو اس کے لیے اپنے حصہ کا منافع درست ہے، کیوں کہ معصیت اصل کاروبار میں واقع نہیں ہوئی، بلکہ غیر مسلم دوست کے سودی قرض لینے میں ہے۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” التنویر وشرحه مع الشامیة “ : وإنما طاب للبائع ما ربح في الثمن لا علی الروایة الصحیحة المقابلة للأصح، بل علی الأصح أیضًا، لأن الثمن في العقد الثاني غیر متعین ۔۔۔۔۔۔۔ وفي حظر الأشباه: الحرمة تتعدّ مع العلم بها۔
(۲۲۰/۷- ۲۲۳، کتاب البیوع، باب البیع الفاسد، مطلب في تعیین الدراهم في العقد الفاسد، ط؛ دیوبند، البحر الرائق:۶/۱۶۱، کتاب البیع، باب البیع الفاسد، فصل في بیان أحکام البیع الفاسد)
ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : والبیوع الفاسدة فکلها من الربا فیجب ردّ عین الربا لو قائمًا۔
(۳۰۲/۷، کتاب البیوع، الباب السادس، باب الربا، البحر الرائق: ۲۰۸/۶، باب البیع الفاسد، باب الربا)
(محمود الفتاویٰ:۴۲۱/۲)
