سود پر قرض لینا کیا شرعاً درست ہے؟

(فتویٰ نمبر: ۹)

سوال:

میں ایک غریب طالب علم ہوں، جامعہ پالی ٹیکنک کالج میں زیر تعلیم ہوں ، میری دوسال کی فیس کی ادائیگی باقی ہے ، میں نے اپنے رشتہ داروں سے قرضِ حسنہ مانگا، لیکن مجھے نہیں ملا، میرے والد نے بینک سے” ایجوکیشن لون“ کے نام پر ایک سودی رقم نکالی جو مجھے ملازمت ملنے پر واپس کرنی ہوگی، اب سوال یہ ہے کہ کیا میرے لیے سودی قرض لینا شرعاً صحیح ہے؟

الجواب وباللہ التوفیق:

سود لینا اور سود دینا شرعاً حرام ہے(۱)، اگر سودی قرض لیے بغیر آپ اپنی حاجت کو پورا نہیں کرسکتے ،تو بقدرِ ضرورت سودی قرض لینے کی گنجائش ہے۔(۲)

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿أَحَلَ اللّٰه الْبَیْعَ وَحَرَّمَ الرَّبٰوا﴾ ۔ (سورة البقرة: ۲۷۵)

ما في ” مشکوة المصابیح “ : عن جابر بن عبد اللّٰه – رضي اللّٰه عنه – قال : ” لعن رسول اللّٰه ﷺ آکل الربا وموکله ، وکاتبه وشاهدیه ، وقال : هم سواء “ ۔ رواه مسلم۔

(ص/۲۴۴ ، صحیح مسلم : ۲۷/۲ ، باب الربوا)

(۲) ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿فَمَنِ اضْطُرَّ فِيْ مَخْمَصَةٍ غَیْرَ مُتَجَانِفٍ لِإِ ثْمٍ﴾ ۔ (سورة المائدة : ۳)

ما في ” البحر الرائق “ : ویجوز للمحتاج الاستقراض بالربح ۔ قوله : في القنیة من الکراهیة یجوز للمحتاج الاستقراض بالربح ۔

(۱۸۵/۶، باب الربا ، الأشباه والنظائر لإبن نجیم الحنفي :۳۲۷/۱)

والله أعلم بالصواب

کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی۔۱۴۲۸/۱۱/۲۸ھ

الجواب صحیح : عبد القیوم اشاعتی۔۱۴۲۸/۱۱/۲۸ھ 

اوپر تک سکرول کریں۔