سود کی رقم سے مدرسہ میں کھیل کا میدان،مہمان خانہ یا پارکنگ پلیس وغیرہ بنانا!

( فتویٰ نمبر: ۱۰۵)

سوال:

ہمارے پاس تقریباً دس لاکھ روپے سودی رقم ہے، ایک مدرسے والے کہتے ہیں کہ اس سودی رقم سے اپنے مدرسے میں کھیل کا میدان(Play Ground)، اساتذہٴ کرام ودیگرکارکنان کے لیے پارکنگ پلیس (Parking Place)اور مہمان خانہ (Guest House)وغیرہ بنائیں گے،تو کیایہ سودی رقم ان مصارف میں استعمال کرسکتے ہیں؟

الجواب وباللہ التوفیق:

آپ کے پاس جو رقم موجود ہے وہ مالِ حرام ہے، اور مالِ حرام بحکمِ لقطہ ہے، یعنی اگر اربابِ اموال کو باوجود از بسیارِ تلاش وجستجو جاننا اور پہچاننا متعذّر اور دشوار ہو، اور اس کے ملنے سے ناامید اورمایوس ہوجائے، توو ہ مال واجب التصدق ہوتا ہے(۱)، اور جب لفظِ ”صدقة “ و” تصدق“مطلقاً (جاریة اور موقوفة کے الفاظ مذکور نہ ہوں) بولا جائے، تو عرفِ فقہا میں وہ محض صدقہٴ تملیک پر محمول ہوتا ہے، جو صدقہ اور تصدق کی حقیقت ہے ،اور حسبِ تصریحاتِ فقہا،فقرا ومساکین ہی اس کا مصرف ہیں، کھیل کا میدان(Play Ground)، پارکنگ پلیس (Parking Place)اور مہمان خانہ (Guest House) وغیرہ اس کا مصرف نہیں ہیں، کیوں کہ ان میں اہلیتِ ملک نہ ہونے کی وجہ سے حقیقتِ صدقہ وتصدق یعنی تملیک (مالک بنانا) متحقق نہیں ہوگی(۲)، اس لیے بلاواسطہ یہ رقم ان مصارف میں صرف نہیں کی جاسکتی ، ہاں! اگر آپ کسی فقیر یا مسکین کو اس رقم کا مالک بنادیں اور وہ اپنی مرضی سے مذکورہ مصارف میں صرف کرے، تو شرعاً یہ درست ہوگا۔

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما في ” بذل المجهود في حل سنن أبي داود “ : وأما إذا کان عند رجل مال خبیثٌ ، فأما إن ملکه بعقد فاسد أو حصل له بغیر عقد ولا یمکنه أن یرده إلی مالکه ، ویرید أن یدفع مظلمته عن نفسه فلیس له حیلة إلا أن یدفعه إلی الفقراء ، لأنه لو أنفق علی نفسه فقد استحکم ما ارتکبه من الفعل الحرام ۔۔۔۔۔ أو أضاعه واستهلکه ، فدخل تحت قوله ﷺ : ” نهی عن إضاعة المال “ ۔ فیلزم علیه أن یدفعه إلی الفقراء، ولکن لا یرید بذلک الأجر والثواب، ولکن یرید دفع المعصیة عن نفسه ۔ اه ۔

(۳۵۹/۱ ،۳۶۰ ، کتاب الطهارة ، باب فرض الوضوء ، ط : دارالبشائر الإسلامیة بیروت)

(وأیضًا: ۳۷/۱ ، ط : مکتبه خلیلیه سهارنفور، و :۳۷/۱ ، ط : مکتبه قاسمیه ملتان ، تحت الرقم : ۵۹)

ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : الحاصل أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده علیهم ، وإلا فإن علم عین الحرام لا یحل له، ویتصدق به بنیة صاحبه ، وإن کان مالا مختلطًا مجتمعًا من الحرام ، ولا یعلم أربابه ولا شیئًا منه بعینه حل له حکمًا ، والأحسن دیانة التنزه عنه ۔

(۳۰۱/۷ ، کتاب البیوع ، باب البیع الفاسد، مطلب فیمن ورث مالا حرامًا ، ط : بیروت ، الفتاوی الهندیة :۳۴۹/۵ ، کتاب الکراهیة)

(۲) ما في ” أحکام القرآن للجصاص “ : قال أبو بکر الجصاص تحت قوله تعالی : (وفي الرقاب) وعتق الرقبة لا تسمی صدقة ، وما أعطی في ثمن الرقبة فلیس بصدقة (إلی قوله) وأیضًا فإن الصدقة تقتضي تملیکاً ، والعبد لم یملک شیئًا بالعتق (ثم قال : ) إذ شرط الصدقة وقوع الملک للمتصدق علیه ۔(۱۶۱/۳ ، ۱۶۲)

ما في ” إمداد المفتیین “ : قلت : إن الصدقة إذا أطلقت کانت صدقة التملیک ۔ اه ۔(۳۸۵/۲)

ما في ” بدائع الصنائع “ : وقد أمر اللّٰه تعالی الملاک بإیتاء الزکاة لقوله عز وجل : ﴿واٰتوا الزکوة﴾ (البقرة :۴۲) والإیتاء هو التملیک ، ولذا سمی اللّٰه تعالی الزکاة صدقة بقوله عز وجل : ﴿إنما الصدقٰت للفقرآء﴾ ۔ (التوبة :۶۰) والتصدق التملیک ۔

(۴۵۶/۲ ، کتاب الزکاة ، فصل في رکن الزکاة ، الفقه الإسلامي وأدلته :۱۸۱۲/۳، باب شروط صحة أداء الزکاة ، ط : رشیدیه ، شرح السیر الکبیر: ۲۵۰/۵، باب الوصیة في سبیل اللّٰه تعالی والمال یعطی ، البحر الرائق : ۳۵۲/۲ ، کتاب الزکاة) فقط

والله أعلم بالصواب

کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی ۔۱۴۲۹/۶/۲۸ھ

الجواب صحیح : عبد القیوم اشاعتی ۔۱۴۲۹/۶/۲۸ھ

اوپر تک سکرول کریں۔