سگریٹ نوشی ناقضِ وضو ہے یا نہیں؟

مسئلہ:

مطلقًا سگریٹ نوشی ؛ اگر اس میں کسی قسم کی نشہ آور چیز کی آمیزش نہ بھی ہو، تب بھی مال کو ضائع کرنے، فضول خرچی کو شامل ہونے ، اور منہ میں ایسی بدبو کے پیدا ہونے کی وجہ سے کہ اس سے دوسرے لوگ نفرت کرتے ہیں- مکروہ ہے، اس لیے عام حالات میں اس کے استعمال سے احتراز کرنا چاہیے، مگر اس کے استعمال سے وضو نہیں ٹوٹے گا۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” الأحکام الفقهیة المتعلقة بالتدخین “ : فأفتی الجمهور الأعظم بالتحریم، وأفتی بعضهم بالکراهة، وذهب آحاد منهم إلی حله، وذهب القلیل إلی أنه تجري علیه الأحکام الخمسة: فهو حرام إذا تحقق ضرره، ومکروه لرائحته، أو کان ضرره قلیلا محتملا، أو لکونه مما اختلف فیه، ومندوب إذا کان له فائدة مرجوة کالمداواة مثلا، ومباح إذا استوی حال متعاطیه شرب أو لم یشرب، وواجب إذا تعین دواء وأخبره بذلک طبیب عادل۔(ص:۴۸، المطب الثامن حکم شرب الدخان، المرحلة الثانیة)

ما في ” الشامیة “ : وفي شرح الوهبانیة للشرنبلالي (الطویل):

ویمنع من بیع الدخان وشربه          وشاربه في الصوم لا شک یفطر

(۴۲/۱۰، کتاب الأشربة)

(فتاویٰ بنوریہ، رقم الفتویٰ: ۱۶۷۰۲)

اوپر تک سکرول کریں۔