مسئلہ:
بسا اوقات ندی، نہر اور سیلاب کے پانی میں تعمیراتی لکڑیاں، گھریلو سامان ، کرسی اور برتن وغیرہ بہہ آتے ہیں، اس طرح کی چیزوں کی دو قسمیں ہیں:
۱) معمولی بے قیمت چیزیں، جن کی مالک کو تلاش نہیں ہوا کرتی۔
۲)قیمتی چیزیں ، جن کی مالک کو تلاش ہوا کرتی ہے۔
پہلی قسم کی چیزیں ملیں تو اُن کی تشہیر اور اعلان کی ضرورت نہیں، اُٹھانے والا اُسے اپنے کام میں لاسکتا ہے، لیکن مالک آکر طلب کرے تو دینا ضروری ہوگا، البتہ دوسری قسم کی چیزوں کی تشہیر اور اعلان ضروری ہے، اور اتنی مدت تک رکھنا بھی ضروری ہے جب تک کہ مالک کے آنے کی امید ہو، اور اگر اس چیز کے بگڑنے کا اندیشہ ہو تو کسی غریب مستحق کو صدقہ کردے، یا اٹھانے والا خود غریب ہو تو وہ بھی اسے استعمال کرسکتا ہے، لیکن اگر مالک آکر، اُٹھانے والے ، یا جس غریب کو صدقہ کردیا گیا، اُس سے طلب کرے، تو دینا ضروری ہوگا، اور اگر وہ چیز موجود نہ ہو تو مالک قیمت بھی لے سکتا ہے۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” التنویر وشرحه مع الشامیة “ : (حطب وجد في الماء، إن له قیمة فلقطة، وإلا فحلال لآخذه) کسائر المباحات الأصلیة ۔ درر ۔ وفي الشامیة: قال ابن عابدین الشامي رحمه الله تعالی: قوله: (إن له قیمة فلقطة) وقیل: إنه کالتفاح الذي یجده في الماء، وذکر في شرح الوهبانیة ضابطًا، وهو أن ما لا یسرع إلیه الفساد ولایعتاد رمیه کحطب وخشب فهو لقطة إن کانت له قیمة ولو جمعه في أماکن متفرقة في الصحیح، کما لو وجد جوزة ثم أخری، وهکذا حتی بلغ ماله قیمة، وبخلاف تفاح أو کمثری في نهر جار فإنه یجوز أخذه وإن کثر لأنه مما یفسد لو ترک۔(۴۴۴/۶، کتاب اللقطة، مطلب فیمن وجد حطبا في نهر أو وجد جوزًا أو کمثری)
ما في ” الفتاوی الهندیة “ : ثم ما یجده الرجل نوعان؛ نوع یعلم أن صاحبه لا یطلبه کالنوی في مواضع متفرقة وقشور الرمان في مواضع متفرقة، وفي هذا الوجه له أن یأخذها وینتفع بها إلا أن صاحبها إذا وجدها في یده بعدما جمعها فله أن یأخذها ولا تصیر ملکا للآخر، هکذا ذکر شیخ الإسلام خواهر زاده شمس الأئمة السرخسي رحمهما الله تعالی في شرح کتاب اللقطة، وهکذا ذکر القدوري في شرحه، ونوع آخر یعلم أن صاحبه یطلبه کالذهب والفضة وسائر العروض وأشباهها، وفي هذا الوجه له أن یأخذها ویحفظها ویعرفها حتی یوصلها إلی صاحبها ۔۔۔۔۔۔ إن کان الملتقط محتاجًا فله أن یصرف اللقطة إلی نفسه بعد التعریف ۔ کذا في المحیط ۔ وإن الملتقط غنیًا لا یصرفها إلی نفسه بل یتصدق علی أجنبي أو أبویه أو ولده أو زوجته إذا کانوا فقراء ۔ کذا في الکافي ۔
(۲۹۰/۲۔۲۹۱، کتاب اللقطة، البحر الرائق: ۲۵۶/۵، کتاب اللقطة، المبسوط للسرخسي:۳/۱۱۔۸، کتاب اللقطة)
(فتاویٰ رحیمیہ :۱۹۳/۹ ۔ ۱۹۴)
