مسئلہ:مکان یا دوکان کو کرایہ پر لیتے وقت جو رقم مالکِ مکان یا دوکان کو سیکورٹی ڈپوزٹ (Securety Deposit) کے نام سے بطور ضمانت دی جاتی ہے، اس رقم کی زکوٰة نہ تو دینے والے پر واجب ہے اور نہ ہی لینے والے پر، کیوں کہ یہ رہن کے حکم میں ہے، اور رہن میں نہ راہن (گروی رکھنے والا) پر زکوٰة واجب ہوتی ہے، اور نہ مرتہن (جس کے پاس گر وی رکھا گیا) پر، اور جب رہن واپس مل جائے تو سالہائے گذشتہ کی زکوٰة بھی واجب نہیں ہوگی ۔
الحجة علی ما قلنا :
ما فی ” الدر المختار مع الشامیة “: ولا فی مرهون بعد قبضه۔” الدر المختار“۔قال ابن عابدین : أی لا علی المرتهن لعدم ملک الرقبة، ولا علی الراهن لعدم الید، وإذا استرده الراهن لا یزکی عن السنین الماضیة، وهو معنی قول الشارح :(بعد قبضه)، ویدل علیه قول البحر، ومن موانع الوجوب الرهن ۔
(۱۸۰/۳، مطلب فی زکاة ثمن المبیع وفاءً، الفتاوی الهندیة :۱۷۲/۱، کتاب الزکاة،الباب الأول)
(محمود الفتاوی :۲۶/۲)
