مسئلہ:
آج کل مسلم محلوں میں شادی خانہ آبادی کی دھوم ہے، ہر روز شادی ہورہی ہے، اسلام نے عورت اور مرد کے رشتے کو ایک عظیم تقدُّس عطا کیا، شوہر کو عورت کے نان ، نفقہ، رہائش اور عصمت کا منتظم ومحافظ قرار دیا(۱)، تو عورت کو اس کے لیے باعثِ سکون(۲)، نیز اس نے اس سنت کو سادگی اور کم خرچ کے ساتھ کرنے کی نہ صرف ترغیب دی(۳)، بلکہ آپ ﷺ نے اپنی چہیتی بیٹی، خاتونِ جنت، حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی شادی جس سادگی کے ساتھ کی(۴)، وہ عالَمِ اسلام کے لیے آج بھی ایک نمونہ ہے، صدیوں تک مسلمان اِسی طریقے کو اپناتے رہے، لیکن آج کا مسلمان غیروں کے رسم ورَواج سے متاثر ہوکر ، پیارے آقا ﷺ کے طریقے کو چھوڑ بیٹھا(۵)، اور اپنے بچوں وبچیوں کی شادیوں میں غیر اسلامی طریقوں کو رَواج دے رہا ہے، مثلاً -: شادیوں کے موقع پر لائٹنگ، میوزک، ویڈیو گرافی، فوٹو گرافی، عورتوں کا فیشن ایبل ملبوسات میں اپنے حسن وجمال کی نمائش، اور دعوتوں میں بوفے ڈِنر کا سسٹم وغیرہ، یہ سب چیزیں غیر اسلامی اور غیر شرعی ہیں(۶)، جو ہماری رُسوائی اور بربادی کا سبب بن رہی ہیں، مگر افسوس ! ہمیں اِس کا احساس تک نہیں، جو انتہائی نقصان اور خسارہ کی بات ہے۔
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿الرجال قوّامون علی النساء بما فضّل الله بعضم علی بعض وما أنفقوا من أموالهم﴾۔ (النساء : ۳۴)
(۲) ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿هنّ لباسٌ لکم وأنتم لباسٌ لهنّ﴾۔ (البقرة:۱۸۷) ﴿ومن آیٰته أن خلق لکم من أنفسکم أزواجًا لتسکنوآ إلیها وجعل بینکم مودّة ورحمة إن في ذلک لاٰیٰت لقوم یتفکّرون﴾۔ (الروم:۲۱) ﴿وجعل منها زوجها لیسکُن إلیها﴾۔ (الأعراف:۱۸۹)
ما في ” روح المعاني “ : ﴿هن لباس لکم وأنتم لباس لهنّ﴾ أي هنّ سکن لکم وأنتم سکن لهنّ۔(۴۶۱/۱، تفسیر حقی:۴۰۸/۱، تفسیر روح البیان:۲۴۴/۱، البقرة، بحواله شامله)
(۳) ما في ” مشکوة المصابیح “ : عن عائشة قالت: قال رسول الله ﷺ: ” إن أعظم النکاح برکة أیسره موٴنة“۔ رواه البیهقي في شعب الإیمان۔
(ص:۲۶۸، کتاب النکاح، الفصل الثالث، قدیمي، شعب الإیمان للبیهقي: ۲۵۴/۵، رقم الحدیث:۶۵۶۶، باب الاقتصاد في النفقة)
(۴) ما في ” سنن النسائي “ : عن علي رضي الله عنه قال: ” جهز رسول الله ﷺ فاطمة في خمیل وقربة ووسادة حشوها اذخر “۔ (۷۷/۲، باب جهاز الرجل ابنته)
(۵-۶) ما في ” صحیح البخاري “ : ” أبغض الناس إلی الله ثلاثة: ملحد في الحرم ومبتغ في الإسلام سنة الجاهلیة، ومطلب دم امرئ مسلم بغیر حق لیهریق دمه “۔
(۱۰۱۶/۲، مشکوة المصابیح: ص/۱۵۰، باب الاعتصام بالکتاب والسنة، کنزالعمال: ۱۷/۱۶، رقم الحدیث: ۴۳۸۲۶)
ما فی ” سنن أبي داود “ : قوله ﷺ: ” من تشبه بقوم فهو منهم “۔ (ص:۵۵۹، کتاب اللباس، باب لباس الشهرة)
ما فی ” تکملة فتح الملهم “ : إن اللباس الذي یتشبه به الإنسان بأقوام کفرة، لا یجوز لبسه لمسلم إذا قصد بذلک التشبه بهم۔ (۷۷/۱۰، کتاب اللباس والزینة)
ما في ” القرآن الکریم “ : قوله تعالی : ﴿ولا ترکنوا إلی الذین ظلموا فتمسّکم النار﴾۔ (سورة هود:۱۱۳)
( معارف القرآن :۶۷۳/۴)
ما في ” حاشیة القونوي علی تفسیر البیضاوي “ : قال ابن عباس: أي لا تمیلوا، والرکون المحبة والمیل بالقلب، وقال أبو العالیة: لا ترضوا بأعمالهم، وقال عکرمة: لا تطیعوهم؛ قال البیضاوي: لا تمیلوا إلیهم أدنی میل، فإن الرکون هو المیل الیسیر کالتزیی بزیهم وتعظیم ذکرهم۔ (۲۲۶/۱۰، تفسیر المظهري:۴۳۰/۴)
