مسئلہ:
اگر کوئی لڑکی مستحق زکوٰة ہے، اور اس کے والدین بھی غریب ہیں، مصارف نکاح کا تحمل نہیں کرسکتے، اوروہ اپنی بچی کی شادی بیاہ کے لئے کسی سے زکوٰة کی رقم طلب کرتے ہیں ، تو صاحب نصاب شخص کے لئے انہیں اپنی زکوٰة کی رقم دینا شرعاً درست ہے،(۱) اب شخص مذکور اس رقم کا مالک بن جانے کے بعد اپنی بچی کی شادی کی تمام ضرورتوں میں اسے خرچ کرسکتا ہے،(۲) اگر وہ اسی رقم سے باراتیوں کیلئے کھانے کا انتظام کرے اور باراتیوں میں صاحب نصاب لوگ بھی ہوں، تو ان کے لیے یہ کھانا کھانا جائز ہے، کیوں کہ ملکیت کے بدل جانے سے اب وہ زکوٰة کی رقم، زکوٰة کی نہ رہی۔(۳)
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما فی ” القرآن الکریم “ : ﴿إنما الصدقٰت للفقرآء والمسٰکین﴾ ۔ (سورة التوبة :۶۰)
ما فی ” الصحیح للبخاری “ : عن ابن عباس رضی الله تعالی عنهما قال: قال رسول الله ﷺ لمعاذ بن جبل حین بعثه إلی الیمن۔۔۔۔ : ” فأخبرهم إن الله قد فرض علیهم صدقة، توٴخذ من أغنیائهم فترد علی فقرائهم “۔(۲۰۲/۱، کتاب الزکوٰة، باب أخذ الصدقة من الأغنیاء وترد فی الفقراء)
(۲) ما فی ” شرح المجلة لسلیم رستم باز “ : کل یتصرف فی ملکه کیف ما شاء۔(ص:۶۵۴، رقم المادة: ۱۱۹۲)
(۳) ما فی ” الصحیح للبخاری “ : عن أنس رضی الله تعالی عنه أن النبی ﷺ أتی بلحم تصدق علی بریرة، فقال: ” هو علیها صدقة وهو لنا هدیة “۔
(۲۰۲/۱، کتاب الزکاة، باب إذا تحولت الصدقة، الصحیح لمسلم: ۳۴۵/۱، کتاب الزکاة، باب إباحة الهدیة للنبی ﷺ)
