شادی کے موقع پر سہرا پڑھنا

مسئلہ:

شادیوں کے موقعوں پر سہرا پڑھنے کا رَواج عام ہوتا جارہا ہے، جس میں خاندان کے اَفراد کی مسرتوں اور بچی کے فراق وجدائی کے احساسات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے، گھر کے تمام افراد یہاں تک کہ عورتوں کے نام بھی بھرے مجمع میں لیے جاتے ہیں، یہ کوئی اچھی بات نہیں ہے، کیوں کہ قرآن کریم کے عام احکام میں اگرچہ مرد وعورت دونوں ہی شامل ہیں، مگر عموماً خطاب مردوں کو کیا گیا، عورتیں اِس میں ضمناً شامل ہیں، ہر جگہ ﴿یا ایها الذین اٰمنوا﴾ کے الفاظ استعمال فرماکر عورتوں کو اُن کے ضمن میں مخاطَب کیا گیا ہے، اِس میں اشارہ ہے کہ عورتوں کے سب معاملات تستُّر اور پردہ پوشی پر مبنی ہیں، اِس میں اُن کا اِکرام واعزاز ہے، خصوصاً پورے قرآن میں غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ ”حضرت مریم بنت عمران“ کے سوا کسی عورت کا نام قرآن میں نہیں لیا گیا، بلکہ ذکر آیا تو مردوں کی نسبت کے ساتھ ” امرأة فرعون“ – ” امرأة نوح“ – ”امرأة لوط“ کے الفاظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ (معارف القرآن :۱۴۳/۷)، اِس لیے سہرہ پڑھنا جو محض ایک رسم ہے، اُسے ترک کرنا چاہیے، نکاح میں جس قدر سادگی ہو، خیر وبرکت کے لحاظ سے اُتنا ہی بہتر ہے۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” الشامیة “ : وقال في تبیین المحارم: واعلم أن ما کان حرامًا من الشعر ما فیه فحش أو هجو مسلم، أو کذب علی الله تعالی أو رسوله ﷺ أو علی الصحابة، أو تزکیة النفس، أو الکذب أو التفاخر المذموم، أو القدح في الأنساب، وکذا ما فیه وصف أمرد أو امرأة بیعنها إذا کانا حیین، فإنه لا یجوز وصف امرأة معینة حیة ولا وصف أمرد معین حيّ حسن الوجه بین یدي الرجال، ولا في نفسه۔(۴۲۶/۹، کتاب الحظر والإباحة، ط: دیوبند)

(فتاویٰ دار العلوم دیوبند، رقم الفتویٰ :۷۹۳۷)

اوپر تک سکرول کریں۔