مسئلہ:
بچے کو دودھ پلانے کی مدت حضرت امام ابوحنیفہ رحمة اللہ علیہ کے نزدیک وقتِ ولادت سے ڈھائی سال تک ہے، البتہ امام صاحب کے دو اونچے درجے کے شاگرد؛ امام ابو یوسف اور امام محمد رحمہما اللہ کے نزدیک اور امام شافعی رحمة اللہ علیہ کے نزدیک دو سال ہے، اور یہی قول راجح اور مختار ہے، علامہ شامی رحمة اللہ علیہ نے ”قہستانی“ کے حوالہ سے بڑی اچھی بات نقل فرمائی ہے کہ جب تک بچہ کو ماں کے دودھ کی ضرورت ہو ، اس وقت تک دودھ پلانا واجب ہے، اس کے بعد سے دو سال تک دودھ پلانا مستحب، اور دو سال کے بعد سے ڈھائی سال تک ضرورةً جائز، اور اس کے بعد دودھ پلانا مباح نہیں ہے، کیوں کہ دودھ آدمی کا جُزء ہے، بلا ضرورت اس سے انتفاع حرام ہے، لہٰذا والدین کو چاہیے کہ اس حکم شرعی کا خیال رکھیں، اور مدتِ رضاعت میں اپنے بچوں کو ماں کا دودھ پلانے کا اہتمام کریں، کیوں کہ اس مدت میں ماں کا دودھ بچہ کے لیے بہترین غذا وٹانک ہے، اس سے جہاں بچہ کی نشو ونما پر انتہائی اچھے اثرات مرتب ہوتے ہیں، وہیں وہ بہت سی بیماریوں سے محفوظ بھی ہوجاتے ہیں، جیسا کہ برطانوی ماہرین کہتے ہیں کہ : ماں کا دودھ پینے والے تین سال سے کم عمر کے بچوں میں دمہ کا خطرہ ۳۷/ فیصد تک کم ہوجاتا ہے، جب کہ ایسے بچے جو ڈبے کا دودھ پیتے ہیں ، اُن کے نظامِ تنفُّس میں اِنفیکشنز (Infections) کی شرح نسبةً زیادہ ہوتی ہے، یہ نتائج ڈھائی لاکھ بچوں پر تحقیق کے بعد اخذ کیے گئے۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” مجمع الأنهر “ : (وهي) أي مدته (حولان ونصف) أي ثلاثون شهرًا من وقت الولادة عند الإمام ۔۔۔۔۔۔۔ (وعندهما حولان) وهو قول الشافعي، وعلیه الفتوی کما في المواهب، وبه أخذ الطحاوي ۔۔۔۔۔۔۔ وفي شرح المنظومة: الإرضاع بعد مدته حرام لأنه جزء الآدمي والانتفاع به غیر ضرورة حرام علی الصحیح۔
(۵۵۲/۱، کتاب الرضاع، الفتاوی الهندیة:۳۴۲/۱، کتاب الرضاع)
ما في ” رد المحتار “ : لکن في القهستاني عن المحیط: لو استغنی في حولین حل الإرضاع بعدهما إلی نصف، ولا تأثم عند العامة خلافا لخلف بن أیوب ۔ اه ۔ ونقل أیضا قبله عن إجارة القاعدي أنه واجب إلی الاستغناء، ومستحب إلی حولین، وجائز إلی حولین ونصف ۔ اه ۔(۲۹۴/۴، کتاب النکاح، باب الرضاع)
ما في ” المحیط البرهاني “ : ولمدة الرضاع ثلاثة أوقات: أدنی وأوسط وأقصی، فالأدنی: حول ونصف، والأوسط: حولان، والأقصی: حولان ونصف، حتی لو نقص عن الحولین لا یکون شططاً، ولو زاد علی الحولین لا یکون تعدیاً، والوسط هو حولان، فلو کان الولد یستغنی عنها دون الحولین ففطمه في حول ونصف یحل ولا تأثم بالإجماع، ولو لم یستغن عنها بحولین فلها ترضعه بعد ذلک ولا تأثم عند عامة العلماء خلافا لخلف بن أیوب رحمه الله تعالی ۔
(۱۸۹/۳،کتاب النکاح،الفصل الثالث عشر في بیان أسباب التحریم)
(فتاویٰ محمودیہ: ۴۹۷/۱۷)
