(فتویٰ نمبر: ۱۳۰)
سوال:
عابدہ کی وفات ہوگئی،اس کا شوہرِ اول سے ایک لڑکا ،اور شوہرِ ثانی سے ایک لڑکا اور ایک لڑکی ہے،بچے فی الحال مرحومہ کے والدین کی پرورش میں ہیں، مرحومہ کی والدہ نے مرحومہ کے نام سے ایک کاروبار کھول رکھا تھا،جس میں اشیائے ضروریہ کرایے پر دی جاتی ہیں، کرایے کی کل رقم اٹھائیس ہزار (۲۸۰۰۰)روپے نقد جمع ہوچکی ہے، اور کاروبار بھی مزید جاری ہے، اور یہ کاروبار مرحومہ کی والدہ کے علاوہ کوئی اور مثلاً شوہر وغیرہ نہیں چلاسکتے، مرحومہ کا ترکہ حسبِ ذیل ہے:
۱/ کرایہ کی نقدرقم اٹھائیس ہزار (۲۸۰۰۰)روپے ۔
۲/ ایک گنٹھہ زمین ۔
۳/ تین تولہ سونا بشکلِ زیور۔
۴/ جب مرحومہ بیمار تھی اس وقت والدنے مرحومہ اور اس کے شوہر کو اپنے کرایے پر چلنے والے کمروں میں سے دو کمرے ہبہ کردیے تھے، کہ جب وہ صحت یاب ہوجائے، تو اس میں سکونت اختیار کرے، لیکن صحت یابی سے قبل ہی وہ فوت ہوگئی، کمرے فی الحال کرایے پر چلتے ہیں اور والد کے قبضے میں ہیں۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ:
۱– کیا کمرے مرحومہ کی میراث بن سکتے ہیں؟ اور کیا ان کمروں کا آنے والا کرایہ اس کے بچوں پر خرچ کیا جاسکتا ہے؟ یا پھر شوہر کے حوالے کرنا ہوگا؟
۲-و ارثین میں کون کون لوگ ہوں گے؟ مرحومہ کا بڑا لڑکا قریب البلوغ ہے اور بقیہ نابالغ ہیں۔
الجواب وباللہ التوفیق:
۱-اگر مرحومہ کی والد ہ نے کاروبار کی ان اشیا (جو کرایے پر دی جاتی ہیں) کا مرحومہ کو مالک بنادیا تھا، تو وہ اس کی ملک ہیں، یہ اشیا اور ان سے حاصل ہونے والی کرایہ کی رقم دونوں اس کے ترکہ میں داخل ہوں گی ،اوراگر مالک نہیں بنایا تھا، محض اس کے نام سے کاروبار کھول رکھاتھا، یا صرف یہ نیت کی تھی کہ اس کاروبار سے حاصل ہونے والی آمدنی مرحومہ کو دے دے گی، تو وہ اس کے ترکہ میں داخل نہیں ہوں گی۔(۱)
۲-عابدہ کو ان کے والد نے جو کمرے بطورِ ہبہ دیے تھے، ان پر قبضے سے پہلے ہی وہ فوت ہوگئی؛ اس لیے ہبہ تام نہیں ہوا، اور جب ہبہ مکمل نہ ہوا تو یہ کمرے مرحومہ کی میراث میں بھی داخل نہیں ہوں گے۔(۲)
۳– ان کمروں کا آنے والا کرایہ بچوں پر خرچ کیا جاسکتا ہے ،کیوں کہ یہ والد کی ملکیت ہے ،اور یہ والد کی طرف سے تبر ع ہوگا۔(۳)
۴-البتہ ان کمروں کے علاوہ مرحومہ نے جو جائدادِ منقولہ یا غیر منقولہ چھوڑی ہے، ا س میں اس کا شوہر ، دونوں لڑکے، لڑکی اور والدین وارث ہوں گے، اور تقسیمِ میراث اس طرح ہوگی کہ مرحومہ کی کل جائداد ساٹھ (۶۰) حصوں میں تقسیم ہوکر، اس کے شوہر کو بیس حصے(۴) ، دونوں لڑکوں میں سے ہر ایک کو آٹھ آٹھ حصے، لڑکی کو چار حصے(۵) ، اور والدین میں سے ہر ایک کو دس دس حصے(۶)، ازروئے شرع ملیں گے۔
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما في ” المبسوط للسرخسي “ : الترکة المال الذي کان مملوکًا للمیت في حال حیاته ۔ (۱۴۵/۲۹ ، کتاب الفرائض ، ط : دار الکتب العلمیة بیروت)
ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : الترکة في الاصطلاح : ما ترکه المیت من الأموال صافیًا عن تعلق حق الغیر بعین من الأموال ۔
(۴۰۹/۱۰ ،کتاب الفرائض،ط:دار الکتاب دیوبند)
ما في ” البحر الرائق “ : الترکة ما ترکه المیت خالیًا عن تعلق حق الغیر بعینه ۔(۳۶۵/۹ ، کتاب الفرائض ، ط : دار الکتاب دیوبند)
(۲) ما في ” السنن الکبری للبیهقي “ : عن أبي موسی الأشعري قال : قال عمر بن الخطاب – رضي اللّٰه عنه – : ” الأنحال میراث ما لم یقبض “ ۔
(۲۸۱/۶ ، کتاب الهبة ، باب شرط القبض في الهبة ، رقم : ۱۱۹۵۱)
ما في ” التنویر مع الدر والرد “ : شرائط صحتها في الموهوب أن یکون مقبوضًا غیر مشاع ، ممیزًا غیر مشغول ۔ (تنویر) ۔ (۴۹/۸ ، کتاب الهبة ، ط : دار الکتاب دیوبند)
ما في ” تبیین الحقائق “ : الهبة عقد ، والعقد لا بد له من الإیجاب والقبول ، وأما القبض فهو شرط لصحة الملک للموهوب له ، حتی لا یملک قبل القبض عندنا ، هذا في حق ثبوت الملک للموهوب له ۔ (۴۹/۶ ، کتاب الهبة ، ط : دار الکتب العلمیة بیروت)
ما في ” بدائع الصنائع “ : وروي عن سیدنا أبي بکر وسیدنا عمر وسیدنا عثمان وسیدنا علي وابن عباس رضي اللّٰه عنهم أنهم قالوا : لا تجوز الهبة إلا مقبوضة محوزة ولم یرد عن غیرهم خلافه ، ولأنها عقد تبرع ، فلو صحت بدون القبض لثبت للموهوب له ولایة مطالبة الواهب بالتسلیم ، فتصیر عقد ضمان وهذا تغییر المشروع ۔ (۱۷۶/۵ ، کتاب الهبة ، باب بیان أصل القبض ، ط : دار الکتاب دیوبند)
(۳) ما في ” بدائع الصنائع “ : قال عامة العلماء : القبض شرط في الهبة والموهوب قبل القبض علی ملک الواهب یتصرف فیه کیف شاء ۔
(۱۷۵/۵ ، کتاب الهبة ، باب بیان أصل القبض ، ط : دیوبند)
ما في ” تبیین الحقائق “ : الهبة عقد ، والعقد لا بد له من الإیجاب والقبول ، وأما القبض فهو شرط لصحة الملک للموهوب له ، حتی لا یملک قبل القبض عندنا ، هذا في حق ثبوت الملک للموهوب له ۔ (۴۹/۶ ، کتاب الهبة ، ط : دار الکتب العلمیة بیروت)
(۴) ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿وَلَکُمْ نِصْفُ مَا تَرَکَ أَزْوَاجُکُمْ إِنْ لَمْ یَکُنْ لَّهنَّ وَلَدٌ فَإِنْ کَانَ لَهنَّ وَلَدٌ فَلَکُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَکْنَ﴾ ۔ (سورة النساء : ۱۲)
ما في ” التنویر مع الدر والرد “ : والربع للزوج مع أحدهما أي الولد أو ولد الإبن، والنصف له عند عدمهما ۔ (تنویر) ۔ (۴۲۲/۱۰ ، کتاب الفرائض ، ط : دار الکتاب دیوبند)
(۵) ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿یُوْصِیْکُمُ اللّٰه فِيْ أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ﴾۔(سورة النساء : ۱۱)
ما في ” التنویر مع الدر والرد “ : قال العلامة الحصکفي رحمه اللّٰه تعالی : العصبات أربعة أصناف : جزء المیت ثم أصله ، ثم جزء أبیه ، ثم جزء جده ، ویقدم الأقرب فالأقرب منهم بهذا الترتیب ، فیقدم جزء المیت کالإبن ثم إبنه وإن سفل ۔ (تنویر) ۔ (۴۲۷/۱۰، کتاب الفرائض ، فصل في العصبات)
(۶) ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿وَلِأَبَوَیْه لِکُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَکَ إِنْ کَانَ لَه وَلَدٌ﴾ ۔ (سورة النساء : ۱۱) فقط
والله أعلم بالصواب
کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی۔۱۴۲۹/۱۰/۲۸ھ
