مسئلہ:
اگر شوہر دینِ مہر عورت کو دیدے، اور وہ مقدارِ نصاب ہو اور اس پر سال بھی گذر جائے، تو عورت کے ذمّہ اس کی زکوٰة واجب ہوگی، اور اگر وہ مقدارِ نصاب نہیں ہے، لیکن عورت کے پاس اس کے علاوہ اتنی مقدار دوسرا مال موجود ہے کہ اس کو مہر کے ساتھ ملانے پر نصاب پورا ہوسکتا ہے، تو اس کو ملاکر زکوٰة ادا کی جائے گی، اگر نصاب پورا نہیں ہوتا تو اس پر زکوٰة واجب نہیں ہوگی ۔
الحجة علی ما قلنا:
ما فی” الدر المختار مع الشامي“:وعند قبض مائتین مع حولان الحول بعده أی بعد القبض من دین ضعیف وهو بدل غیر مال کمهر ودیة وبدل کتابة وخلع إلا إذا کان عنده یضم إلی الدین الضعیف ۔” الدر المختار“۔ قال الشامی : الحاصل أنه إذا قبض منه شیئاً وعنده نصاب یضم المقبوض إلی النصاب ویزکیه بحوله، ولا یشترط له حول بعض القبض۔(۲۱۹/۳، کتاب الزکوة، مطلب فی وجوب الزکوة فی دین المرصد)
ما فی ” الفتاوی الهندیة “ : وأما سائر الدیون المقر بها، فهی علی ثلاث مراتب عند أبی حنیفة : ضعیف وهو کل دین ملکه بغیر فعله لا بدلا عن شيء نحو المیراث، أو بفعله لا بدلا عن شيء کالوصیة، أو بفعله بدلاً عما لیس بمال کالمهر وبدل الخلع والصلح عن دم العمد والدیة وبدل الکتابة لا زکوٰة فیه عنده حتی یقبض نصاباً ویحول علیه الحول۔(۱۷۵/۱:الباب الأول فی تفسیرها وصفتها ، خلاصة الفتاوی :۲۳۸/۱، الفصل السادس فی الدیون ومسائلها، البحر الرائق:۳۶۳/۲، کتاب الزکوٰة)
(فتاوی محمودیه:۳۲۰/۹)
