مسئلہ:
بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ بیوی اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر اپنے ذاتی پیسوں یا پراپرٹی کو خیرات نہیں کرسکتی، اُن کی یہ بات درست نہیں ہے، صحیح یہ ہے کہ بیوی کے لیے اپنے ذاتی پیسوں یا پراپرٹی کو خیرات کرنے کے لیے شوہر سے اجازت لینا ضروری نہیں ، کیوں کہ وہ مالک ہے، اور مالک کو اپنی مِلک میں تصرف کرنے کے لیے کسی اور کی اجازت لینا ضروری نہیں، البتہ مشورہ لینا بہتر ہوگا۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” الهدایة “ : ووجه الجواز أنها تصرفت في خالص حقها وهي من أهله لکونها عاقلة ممیزة، ولهذا کان لها التصرف في المال ولها اختیار الازواج۔
(۳۱۴/۲، کتاب النکاح، باب الأولیاء والاکفاء)
ما في ” التفسیر للبیضاوي “ : المالک هو المتصرف في الأعیان المملوکة کیف شاء من الملک۔ (ص:۷، تفسرة سورة الفاتحة)
ما في ” شرح المجلة “ : کل یتصرف في ملکه کیف ما شاء۔ (ص:۶۵۴، رقم المادة: ۱۱۹۲)
