مسئلہ:
بعض مسلم کپڑا فروش حضرات اپنے گاہکوں کو لُبھانے کے لیے شوروم میں مجسموں کو سنوار کر رکھتے ہیں، گاہکوں کو راغب کرنے کے لیے یہ طریقہ اختیار کرنا شرعاً جائز نہیں ہے، کیوں کہ شرعِ اسلامی میں مجسمہ سازی ، اس کی خرید وفروخت اور اُسے اپنے مکان اور دکان میں رکھنے کی ممانعت ہے(۱)، گاہکوں کو راغب کرنے کے لیے شریعت نے صداقت ودیانت کے ساتھ تجارت کرنے کا حکم فرمایاہے(۲)، اگر اسے اپنایا جائے تو گاہک خود بخود چل کر آئیں گے، اور اِس غیر شرعی طریقے کو اختیار کرنے کی ضرورت باقی نہ رہے گی، تاہم! تاجر نے اس غیر شرعی طریقہ پر تشہیر وآرائش کو اپنا کر جو مال فروخت کیا اور اس پر نفع کمایا، وہ حلال ہے، کیوں کہ اس تجارت میں دیگر کوئی خلافِ شرع بات نہیں ہوئی، بلکہ معصیت طریقہٴ تشہیر میں واقع ہوئی۔
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما في ” صحیح البخاري “ : عن مسلم قال: کنا مع مسروق في دار یسار بن نُمیر فرآی في صُفَّتِه تماثیلَ، فقال: سمعتُ عبد الله قال: سمعتُ النبي ﷺ یقول: ” إنّ أشدّ الناس عذابًا عند الله یوم القیامة المصوّرون “۔(۸۸۰/۲، کتاب اللباس، باب عذاب المصورین یوم القیامة، رقم الحدیث:۵۹۵۰)
وفیه أیضًا: عن أبي طلحة رضي الله عنهم قال:قال النبي ﷺ: ”لا تدخل الملائکة بیتًا فیه کلبٌ ولا تصاویرُ“۔(۸۸۰/۲،کتاب اللباس، باب التصاویر،رقم الحدیث:۵۹۴۹)
ما في ” مرقاة المفاتیح “ : قال أصحابنا وغیرهم من العلماء: تصویر صورة الحیوان حرامٌ شدید التحریم، وهو من الکبائر، لأنه متوعدًا علیه بهذا الوعید الشدید المذکور في الأحادیث، سواءٌ صنعه في ثوب أو بساط أو درهم أو دینار أو غیر ذلک۔(۳۲۳/۸، کتاب اللباس، باب التصاویر، الفصل الأول)
ما في ” الفتاوی الشامیة “ : وظاهر کلام النووي في شرح مسلم: الإجماع علی تحریم تصویر الحیوان وقال: سواء صنعه لما یمتهن أو لغیره، فصنعته حرام بکل حال، لأن فیه مضاهاة لخلق الله تعالی۔(۳۶۰/۲، کتاب الصلاة، باب مکروهات الصلاة، الموسوعة الفقهیة:۱۰۳/۱۲)
(۲) ما في ” مشکوة المصابیح “ : عن أبي سعید قال: قال رسول الله ﷺ: ” التاجر الصدوق الأمین مع النبیین والصدیقین والشهداء “ ۔ رواه الترمذي والدار قطني ۔
(۸۵۱/۲، کتاب البیوع، باب المساهلة في المعاملات، رقم الحدیث:۲۷۹۶، جامع الترمذي:۲۵۸/۲، کتاب البیوع، باب ما جاء في التجار وتسمیة النبي ﷺ إیاهم، رقم الحدیث:۱۲۰۹)
(کتاب الفتاویٰ:۲۶۶/۵)
