شیشے کے بکس میں مچھلیاں پالنا

مسئلہ:

اگر کسی شخص کو مچھلیاں پالنے کا شوق ہو، اور وہ بڑے تالاب میں مچھلیوں کو پالے تو اس کی اجازت ہے، یہ جاندار کو قید کرنے کے ضمن میں داخل نہ ہوگا، مچھلیاں اس تالاب میں آزاد ہوکر گھومیں گی ، پھریں گی، لیکن اگر کسی چھوٹے بکس میں پالنے کا شوق ہو، جیسا کہ آج کل لوگ گھروں میں شیشے کے اندر ان کو رکھتے ہیں، تویہ بہتر نہیں، یہ اُن کی آزادی کو مقید کرنے کے برابر ہے۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” سنن أبی داود “ : عن أنس بن مالک قال: کان رسول الله ﷺ یدخل علینا ولي أخ صغیر یکنی أبا عمیر، وکان له نغر یلعب به فمات، فدخل علیه النبي ﷺ ذات یوم فرآه حزینًا، فقال: ما شأنه؟ فقالوا: مات نُغَره، فقال: ” أبا عمیر ما فعل النُّغیر “۔

(ص:۶۷۹، کتاب الأدب، باب في الرجل یتکنی ولیس له ولد، رقم الحدیث:۴۹۶۹، صحیح البخاری:۹۱۵/۲، کتاب الأدب، باب الکنیة للصبي قبل أن یولد للرجل، رقم الحدیث:۶۲۰۳، صحیح مسلم:۲۱۰/۲، کتاب الآداب، باب جواز تکنیة من لم یولد له وتکنیة الصغیر، رقم الحدیث:۲۱۵۰)

ما في ” المنهاج شرح صحیح مسلم بن الحجاج “ : وجواز لعب الصبي بالعصفور وتمکین الولی إیاه من ذلک۔ (۲۵۱/۷، تحت رقم الحدیث:۲۱۵۰)

ما في ” مرقاة المفاتیح “ :قال:وإنه لا بأس أن یعطی الصبي الطیر لیلعب به من غیر أن یعذبه۔(۱۰۶/۹،کتاب الأدب،باب المزاح،الفصل الأول،تحت رقم الحدیث:۴۸۸۴)

(فتاویٰ دار العلوم دیوبند، رقم الفتویٰ:۳۸۱۱۵)

اوپر تک سکرول کریں۔