مسئلہ:
اگرفرائض میں سے کوئی فرض چھوٹ گیا جس کی وجہ سے دوبارہ اس فرض کا اعادہ کیا جارہا ہو ،تو دوسری جماعت میں وہ لوگ شامل ہوسکتے ہیں جو پہلی جماعت میں شامل نہیں تھے، کیونکہ پہلی نماز سے فرض ذمہ سے ساقط نہیں ہوا تودوسری نماز مستقل فرض نماز ہے۔
اور اگر واجباتِ نماز میں سے کوئی واجب چھوٹ گیا اور سجدۂ سہو نہیں کیا گیا اس لئے نماز کا اعادہ کیا جارہا ہو، تو اس صورت میں وہ لوگ جو پہلی جماعت میں شامل نہیں تھے شریک ہو سکتے ہیں یا نہیں اس میں اختلاف ہے،شرکت کی صورت میں صحتِ صلاةکا قول راجح واوسع ہے اور عدمِ صحت کا قول احوط ہے۔
الحجة علی ما قلنا
ما في ’’ التنویر مع شرحه‘‘: (لھا واجبات) لا تفسد بترکھا وتعاد وجوباً في العمد والسھو إن لم یسجد له ، وإن لم یعدھا یکون فاسقاً آثماً ، وکذا کل صلاة أدیت مع کراھة التحریم تجب إعادتھا ، والمختار أنه جابر للأول لأن الفرض لا یتکرر۔ (۱۴۶/۲، مطلب واجبات الصلاة)
ما في ’’فتح القدیر‘‘: ولا إشکال في وجوب الإعادة إذ ھو الحکم في کل صلاة أدیت مع کراھة التحریم ویکون جابراً للأول لأن الفرض لا یتکرر وجعله الثاني یقتضي عدم سقوطه بالأول وھو لازم ترک الرکن لا الواجب۔ (۳۰۸/۱ ، کتاب الصلاة ، باب صفة الصلاة)
ما في ’’البحر الرائق‘‘: وعن السرخسي : من ترک الاعتدال تلزمه الإعادة ، ومن المشایخ من قال تلزمه ویکون الفرض ھوالثاني ولا إشکال في وجوب الإعادة إذ ھو الحکم في کل صلاة أدیت مع کراھة التحریم یکون جابراً للأول لأن الفرض لا یتکرر وجعله الثاني یقتضي عدم سقوطه بالأول وھو لازم ترک الرکن لا الواجب۔
(۵۲۳/۱ ،کتاب الصلاة ، باب صفة الصلاة)
ما في ’’حاشیة الطحطاوي‘‘: وإن ترکه الواجب عمداً آثم ووجب علیه إعادة الصلاة تغلیظاً علیه لجبر نقصھا فتکون مکملة وسقط الفرض بالأولی وقیل تکون الثانیة فرضاً فھي المسقطة۔(ص۴۶۲ ، باب سجود السھو)
