(فتویٰ نمبر: ۱۹۴)
سوال:
قاری عبد اللہ اپنی بیوی ”راحت“ کے ساتھ بمبئی میں رہتا تھا،معتبر ذر یعے سے معلوم ہوا کہ لڑکی کو داڑھی والا اور عالم لڑکا اچھا نہیں لگتا ہے، اس کا کہنا ہے کہ مجھ کو جنس پینٹ والا مرد زیادہ اچھا لگتا ہے، اس نے بمبئی میں” شہباز عالم “کو رشتہ دار بتاکر اس سے ناجائز تعلقات پیدا کرلیے، اورامتحان کے بہانے اپنے بھائی کے ساتھ اپنے والدین کے گھر چلی گئی،وہاں جاتے ہی طرح طرح کے جھوٹے الزامات عائد کرکے فتنہ کھڑا کردیا، جس کی وجہ سے حالات کافی پیچیدہ اور سنگین ہوگئے، اور عبداللہ کے ساتھ رہنے سے صاف انکار کر نے لگی،جب عبد اللہ نے تحقیقات شروع کیا، تو ناجائز تعلقات کے کئی شرعی ثبوت ملے،لیکن اس نے 498/کی دھمکی دی،اورطلاق کے علاوہ دوسری بات سننے کو تیارہی نہیں، کہتی ہے کہ طلاق نہ دینے پر کورٹ میں مقدمہ دائر کردوں گی،اس پر عبد اللہ نے تین روز کی مہلت مانگی، تو مہلت دینے کے لیے بھی تیار نہیں ہوئی،جبراً ٹیلیفون پر ہی طلاق کے لیے مجبور کیا گیا، اس لیے عبد اللہ نے حکمةً حالات کو سازگار بنانے کے لیے، اس کی تسلی اور اطمینان کی خاطر طلاقِ بائن دے دی،وہ الفاظ یہ ہیں:”ٹھیک ہے میں راحت بنت حسیب الرحمن کو (یہاں تک جملہ ایک سانس میں کہا گیا)طلاقِ بائن دے رہا ہوں إن شاء اللہ“(طلاقِ بائن سے إن شاء اللہ تک کاجملہ ایک سانس میں کہا گیا)، توکیا اس صورت میں راحت شرعاً مطلقہ ہوگئی یا نہیں؟
الجواب وباللہ التوفیق:
صورتِ مسئولہ میں شوہر نے طلاق سے متصلاً ”إن شاء اللہ“ کہا ہے،اس لیے طلاق واقع نہیں ہوگی۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” الهدایة علی صدر فتح القدیر “ : قال العلامة برهان الدین المرغیناني رحمه اللّٰه : وإذا قال الرجل لإمرأته : أنت طالق إن شاء اللّٰه تعالی متصلا لم یقع الطلاق ۔(۱۲۰/۴ ، کتاب الطلاق ، باب الأیمان في الطلاق ، فصل في لاستثناء)
ما في ” تنویر الأبصار مع الدر والرد “ : قال لها : أنت طالق إن شاء اللّٰه متصلاً مسموعًا لا یقع ۔ (تنویر) ۔ (۴۷۳/۴ ، کتاب الطلاق ، الباب السادس)
ما في ” الاختیار لتعلیل المختار “ : قال لها : أنت طالق إن شاء اللّٰه ، أو ما شاء اللّٰه ، أو ما لم یشأ اللّٰه ، أو إلا أن یشاء اللّٰه ، لا یقع شيء إن وصل ۔
(۱۷۴/۲ ، فصل الحکم إذا علق الطلاق علی مشیة اللّٰه)
ما في ” الجوهرة النیرة “ : قوله : وإذا قال لإمرأته : أنت طالق إن شاء اللّٰه متصلا لم یقع الطلاق ، سواء سمع الاستثناء أو لم یسمعه ، إذا کان قد حرک به لسانه ۔
(۱۹۳/۲ ، کتاب الطلاق) فقط
والله أعلم بالصواب
کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی ۔۱۴۳۰/۲/۲۹ھ
