مسئلہ:
اخبار پڑھنا گرچہ جائز ہے، مگر طالب علم کے لیے اس کا پڑھنا لایعنی اور ضیاعِ وقت کا باعث ہونے کے علاوہ تشویش کا بھی موجب ہے، جو ذہنی یکسوئی کو ختم کرنے کی وجہ سے تعلیم کے لیے زہرِ قاتل ہے، اس لئے اس سے احتراز لازم ہے۔
الحجة علی ما قلنا:
ما فی”جمع الجوامع“: قال النبی ﷺ : ” من حسن إسلام المرء ترکه ما لا یعنیه “۔ (۳۹۳/۶ ، رقم الحدیث: ۲۰۰۰۷)
ما فی” المقاصد الشرعیة “:إن الوسیلة أو الذریعة تکون محرمة إذا کان المقصد محرماً، وتکون واجبة إذا کان المقصد واجباً۔ (ص:۴۶)
ما فی ” الشامیة “: ما کان سبباً لمحظور فهو محظور۔ (۲۳۳/۵، المکتبة النعمانیة بدیوبند)
