طلباء کا بلا اجازت اپنے ساتھیوں کی چپل پہن کر چلا جانا

مسئلہ:

بعض طلباء اپنے ساتھیوں کی چپل ان کی اجازت کے بغیر پہن کرچلے جاتے ہیں، اور ان کی جو منزلِ مقصود ہوتی ہے وہاں لیجاکر اسے چھوڑ دیتے ہیں، مثلاً درسگاہوں کے سامنے سے پہن کر مطبخ چلے جاتے ہیں اور وہیں چھوڑ دیتے ہیں ، یا درسگاہوں میں سے پہن کر مسجد چلے جاتے ہیں اور وہیں چھوڑ دیتے ہیں، ان کا یہ عمل چوری ہے، جو شرعاً حرام ہے(۱)، اور چور پر لازم ہے کہ وہ عین مسروق ، مسروق منہ کو یعنی چرائی ہوئی چیز اس کے اصل مالک کو لوٹادے، اور ضائع ہونے یا کرنے کی صورت میں اگر اس کا مثلِ صوری موجود ہو تو مثلِ صوری ، ورنہ مثل معنوی یعنی قیمت ادا کردے(۲)، لہذا طلباء کو چاہیے کہ وہ اس طرح ایک دوسرے کی چیزیں بلااجازت استعمال نہ کریں، کیوں کہ یہ جائز نہیں ہے(۳)، ورنہ مناسبِ حال تعزیر کرنا درست ہوگا۔(۴)

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما فی ” القرآن الکریم “ : ﴿والسارق والسارقة فاقطعوا أیدیهما جزاءً بما کسبا نکالاً من الله والله عزیز حکیم﴾ ۔ (سورة المائدة:۳۸)

ما فی ” أحکام القرآن لإبن العربی “ : حقیقة السرقة وهی أخذ المال علی خفیة من الأعین۔ (۶۰۴/۲)

ما فی ” تعلیق بدائع الصنائع “ : فإن الله تعالی قد رتب وجوب قطع الأیدی علی السرقة عقوبة السارق، وهذه العقوبة الشدیدة لا تکون إلا علی فعل محرم شرعاً لما فیها من شدید الإیذاء۔(۲۷۹/۹، کتاب السرقة، فصل فی رکن السرقة)

(۲) ما فی”الموسوعة الفقهیة “: ولا خلاف فی وجوب الضمان المسروق إذا تلف، ولم یقم الحد علی السارق بسبب یمنع القطع کأخذ المال من غیر حرز أو کان دون النصاب أو قامت شبهة تدرأ الحد أو نحو ذلک، وحینئذٍ یجب علی السارق أن یرد مثل المسروق إن کان مثلیاً وقیمته إن کان قیمیاًً۔(۳۴۶/۲۴)

(۳) ما فی ” السنن الکبری للبیهقی “ : ” لا یحل مال امرئٍ مسلم إلا بطیب نفس منه“۔

(۱۶۶/۶، کتاب الغصب، مشکوة المصابیح : ص ۲۵۵، السنن الدارقطنی: ۲۲/۳، کتاب البیوع ، رقم الحدیث:۲۸۶۲، المسند للإمام أحمد بن حنبل :۴۰۰/۱۵، رقم الحدیث:۲۰۹۸۰، جمع الجوامع : ۷/۹، رقم الحدیث: ۲۶۷۵۹، شعب الإیمان للبیهقی:۳۸۷/۴۔ رقم الحدیث:۵۴۹۲)

ما فی ” درر الحکام شرح مجلة الأحکام “ : لا یجوز لأحد أن یتصرف فی ملک الغیر بلا إذنه۔ وفیه أیضاً : لا یجوز لأحد أن یأخذ مال أحد بلا سبب شرعي۔

(۹۶/۱۹۸، رقم المادة:۹۶- ۹۸)

(۴) ما فی ” منهاج المسلم للجزائري“: التعزیر: التأدیب بالضرب والشتم أو المقاطعة أو النفی۔ حکمه:التعزیر واجب فی کل معصیة لم یضع الشارع لها حداً ولا کفارة، وذلک کالسرقة التی لم تبلغ نصاب القطع إلخ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ أن یجتهد السلطان فی التعزیر ویضع لکل حال ما یناسبها۔۔۔۔۔۔۔۔۔ إذ المقصود من التعزیر التربیة والتأدیب لاالتعذیب والانتقام۔ (ص:۴۳۴۔۴۳۵)

اوپر تک سکرول کریں۔