طلبائے مدارس کا سال کے اختتام پر چندہ کرکے اساتذہ اورساتھیوں کی دعوت کرنا

(فتو یٰ نمبر: ۱۰۰)

سوال:

۱-درس گاہوں کے اندر طلبا، اساتذہ کے کہنے پررقم جمع کرتے ہیں، پھر اس رقم کے ذریعے اساتذہ کی گدی پر بچھانے کے لیے چادر، گھڑی، گلاس اور جگ وغیرہ سامان لاتے ہیں، جن کا استعمال اساتذہ اور طلبا دونو ں کرتے ہیں، ایسا کرناشرعاًکیسا ہے؟

۲-کچھ اساتذہ کتاب کے اختتام پر پروگرام رکھ کر ناشتے کی دعوت کرتے ہیں، جس میں اساتذہ کرام کو بھی مدعو کیا جاتا ہے، لیکن ناشتے کی رقم میں طلبا کی طرف سے زیادہ اور استاذ کی طرف سے دی ہوئی رقم کم ہوتی ہے، تو کتاب کے اختتام پر پروگرام کروانا یا کرنا، اور پھر طلبا کی رقم سے ناشتہ کرنا یا کروانا، شریعت کی نگاہ میں کیسا ہے؟

۳-کچھ اساتذہ طلبا سے رقم جمع کرتے ہیں، جس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ ہر طالبِ علم کو ۲۰/ روپئے دینے کا مکلف بناتے ہیں، اور پھر وصولی کی ذمہ داری کلاس کے کسی طالبِ علم کو دے دیتے ہیں، جس میں طالبِ علم ہر ایک سے رقم وصول کرتا ہے، لیکن کچھ غریب طلبہ عدمِ استطاعت کے باوجود، دوسروں سے قرض لے کر وصول کرنے والے طالبِ علم کے حوالے کردیتے ہیں، جس میں غریب کو اپنی غربت کا احساس ہوتا ہے، اور دوسری شکل یہ ہوتی ہے کہ استاذ دن اور تاریخ متعین کردیتا ہے کہ فلاں دن اور فلاں تاریخ کو تھیلی گھمائی جائے گی، جس طالبِ علم کو اپنی خوشی سے جو رقم دینی ہو وہ اس میں ڈال دے، اس شکل کا نام ”بند مٹھی“ہے ، جس میں کسی بھی طالبِ علم کو کسی دوسرے طالبِ علم کے بارے میں کچھ پتہ نہیں رہتا کہ کس نے کتنا روپیہ دیا؟اس صورت میں تمام طلبا خوش بھی ہوتے ہیں ، تو اس طرح رقم جمع کرنا، طلبا کی رقم سے دعوت کھانا اور کھلانا شرعاً کیسا ہے؟

۴-طلبا سال کے اخیر میں رقم جمع کرکے اساتذہ کو کپڑے بھی بنواتے ہیں، یہ کیسا ہے؟

الجواب وباللہ التوفیق:

۱-بلاضرورتِ شرعیہ چندہ کرنا ناجائز ہے، لیکن اگر تمام طلبا بالغ ہیں(۱)، اپنی اپنی رضا ورغبت سے یہ رقم جمع کرتے ہیں اور اپنی درس گاہ کے لیے مذکورہ چیزیں لاتے ہیں، تو شرعاً یہ عمل جائز ہے۔(۲)

۲-کتابوں کے اختتام پرطلبا کی طرف سے اپنے اساتذہ ،یا اساتذہ کی طرف سے اپنے طلبا وغیرہ کی دعوتِ طعام یا ناشتہ شرعاً جائز ہے، کیوں کہ یہ موقعہٴ مسرت ہے، اور ہر موقعہٴ مسرت وشادمانی میں دعوت دینا شرعاً جائز ہے، کیوں کہ ضابطہ ہے : ” اَلدَّعْوَةُ عِنْدَ السُّرُوْرِ “ ۔کہ دعوت سرور کے وقت ہوتی ہے۔ نیز اس کی اصل ”صحیح بخاری، باب الطعام عندالقدوم “میں موجود ہے۔(۳)

 لیکن آج کل مدارس میں جو رواج ہے وہ یہ ہے کہ کسی درجے کے طلبا اپنے تمام ساتھیوں سے رقم جمع کرتے ہیں، جن میں بہت سے طلبا جن کی استطاعت نہیں ہوتی وہ بھی چار وناچار مروت وغلبہٴ حیا، یا اپنے آپ کو طعن وتشنیع، تحقیر وتذلیل، سبکی وعار، یا استاذ کی ناراضگی وخفگی سے بچانے کے لیے کبھی تو قرض لے کر رقم جمع کرتے ہیں۔

اس طرح کی دعوتِ طعام وناشتے کا اہتمام کرنا، کھانا اور کھلانا، سب ناجائز وحرام ہیں، کیوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ: ”کسی مسلمان کا مال اس کی خوش دلی اور رضامندی کے بغیر حلال نہیں۔“ ” لا یَحِلُّ مَالُ امْرِئٍ مُّسْلِمٍ إِلَّا بِطِیْبِ نَفْسِه “۔(۴)

۳-شرعاً جائز نہیں ہے۔(۵)

۴-یہ صورت جائز ہے۔(۶)

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : (وتصرف الصبي والمعتوه إن کان نافعًا کالإسلام والاتهاب صح بلا إذن ، وإن ضارًا کالطلاق والعتاق) والصدقة والقرض۔ (در مختار) ۔ وفي الشامیة : قوله : (کالطلاق والعتاق)۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وکذا الهبة والصدقة وغیرهما ۔ قهستاني ۔(۲۵۳/۹ ، کتاب المأذون ، ط : بیروت)

(۲) ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿یٰأَیُّها الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَأْکُلُوٓا أَمْوَالَکُمْ بَیْنَکُمْ بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَنْ تَکُوْنَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْکُمْ﴾ ۔ (سورة النساء : ۲۹)

ما في ” أحکام القرآن للجصاص “ : قال العلامة الجصاص تحت آیة : ﴿یٰأَیُّها الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَأْکُلُوٓا أَمْوَالَکُمْ بَیْنَکُمْ بِالْبَاطِلِ﴾ قد انتظم هذا العموم النهي عن أکل مال الغیر بالباطل ، وأکل مال نفسه بالباطل ، وذلک لأن قوله تعالی : ﴿أموالکم﴾ یقع علی مال الغیر ومال نفسه ، فکذلک قوله تعالی : ﴿یٰأَیُّها الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَأْکُلُوٓا أَمْوَالَکُمْ بَیْنَکُمْ بِالْبَاطِلِ﴾ نهی لکل أحد عن أکل مال نفسه ومال غیره بالباطل ، وقد قیل فیه وجهان : أحدهما ما قال السدي : وهو أن یأکل بالربا والقمار والبخس والظلم ، وقال ابن عباس رضي اللّٰه عنهما والحسن : أن یاکله بغیر عوض ۔۔۔۔۔۔ اللّٰهم إلا أن یکون المراد الأکل عنده بغیر إذنه ۔

(۲۱۶/۲ ، ۲۱۷ ، باب التجارة وخیار البیع ، ط : مکتبة شیخ الهند دیوبند)

ما في ” سنن الدار قطني “ : عن أنس بن مالک : أن رسول اللّٰه ﷺ قال : ” لا یحل مال امرئ مسلم إلا بطیب نفسه “ ۔

(۲۲/۳ ، کتاب البیوع ، ط : دار الإیمان سهارنفور)

(مشکوة المصابیح : ص/۲۵۵ ، کتاب الغصب والعاریة)

(۳) ما في ” صحیح البخاري “ : عن جابر بن عبد اللّٰه – رضي اللّٰه عنهما : ” أن رسول اللّٰه ﷺ لما قدم المدینة نحر جزورًا أو بقرةً “ ۔

(ص/۵۴۹ ، کتاب الجهاد والسیر ، باب الطعام عند القدوم ، ط : دار إحیاء التراث العربي بیروت)

ما في ” الجامع لأحکام القرآن للقرطبي “ : مالک عن نافع عن ابن عمر قال : ” تعلم عمر البقرة في اثنتي عشرة سنة ، فلما ختمها نحر جزورًا “ ۔

(۳۰/۱ ، ط : دار الکتب العلمیة بیروت)

ما في ” الاختیار لتعلیل المختار “ : ونقل عن أبي حنیفة : وحین حفظ ابنه حماد سورة الفاتحة وهب للمعلم خمس مائة درهم ، وکان الکبش یشتری بدرهم ، فاستکثر المعلم هذا السخاء إذ لم یعلمه إلا الفاتحة ، فقال أبوحنیفة : لا تستحقر ما علّمت ولدي ، ولو کان معنا أکثر من ذلک لدفعناه إلیک تعظیمًا للقرآن ۔ (۷/۱ ، ط : دار أرقم بیروت)

(۴)بحواله سابق ، حاشیه نمبر (۲)

(۵)بحواله سابق ، حاشیه نمبر (۲)

(۶)بحواله سابق ، حاشیه نمبر (۲) فقط

والله أعلم بالصواب

کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی۔۱۴۲۹/۶/۲۳ھ 

اوپر تک سکرول کریں۔