طلبا کو جگانے کے لیے تلاوت کی کیسیٹ(Cassette)بجانا!

(فتویٰ نمبر: ۱۳۶)

سوال:

کیا طلبا کو جگانے کے لیے کیسیٹ (Cassette)میں محفوظ تلاوت ٹیپ ریکارڈ (Tape record) کے ذریعہ بجانا،جائز ہے ؟

جواب:

طلبہٴ کرام کو اُٹھانے کی غرض سے کیسیٹ(Cassette) میں محفوظ تلاوتِ قرآنِ کریم بذریعہٴ ٹیپ ریکارڈ (Tape record) بجانا شرعاً ناجائز، غیرتِ ایمانی کے خلاف اور گناہ کا کام ہے، کیوں کہ اس میں قرآنِ کریم کی توہین لازم آتی ہے، اور ہرا یسا کام جس سے کلامِ الٰہی کی توہین لازم آئے واجب الترک ہے۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے :﴿وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هوَ شِفَآءٌ وَّرَحْمَةٌ لِّلْمُوٴْمِنِیْنَ وَلا یَزِیْدُ الظّٰلِمِیْنَ إِلاَّ خَسَارًا﴾ ۔”اور ہم ایسی چیز یعنی قرآنِ کریم نازل کرتے ہیں کہ وہ ایمان والوں کے حق میں شفا اور رحمت ہے او ر نا انصافوں کو اس سے الٹا نقصان بڑھتا ہے۔“ (بني اسرائیل :۸۲)

اس آیت میں اللہ رب العزت نے قرآنِ کریم کو نازل کرنے کا مقصد یہ بیان فرمایا کہ قرآنِ کریم کے ذریعہ مومنوں کے ایمان میں اضافہ وزیادتی ہو، اور وہ اس کے ذریعہ اپنے دین واخلاق کی اصلاح کرلیں، قلوبِ انسانی سے شک ونفاق، شرک، زَیغ و اِلحاد، اسی طرح جہل وضلالت دور ہو، یہی وجہ ہے کہ خالق ومالک نے تمام انسانوں کو اپنے کلام میں غورو فکر کرنے کی دعوت دی ہے، اس کا فرمان ہے:﴿اَفَلاَ یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلٰی قُلُوْبِهمْ اَقْفَالُها﴾۔” تو کیا یہ لوگ قرآن میں غوروفکر نہیں کرتے یا دلوں پر قفل لگ رہے ہیں ۔“ (سورة محمد : ۲۴)

اوریہ حکم دیا کہ” قرآنِ کریم جب پڑھا جائے تو اس کو غور سے سنو اور خاموش رہو “۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿وَاِذَا قُرِئَ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَه وَاَنْصِتُوْا لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوْنَ﴾۔”جب قرآنِ کریم پڑھا جائے، تو اس کی طرف کان لگایا کرو اور خاموش رہا کرو، تا کہ تم پر رحمت کی جائے۔ “ (سورة الأعراف : ۲۰۴)

فقہائے کرام نے لکھا ہے کہ اگر کوئی شخص ”یا اللہ“ اس لیے کہے تا کہ لوگوں کو اس کی آمد کی اطلا ع ہو اور لوگ اس کو جگہ دیں اور اس کی تعظیم وتوقیر کریں، تو اس کا یہ عمل مکروہ ہے، یا اگر کوئی استاذ سبق ختم ہونے کی خبردینے کے لیے ”اللہ اعلم “کہے، تو یہ مکروہ ہے، یا اگر کوئی چوکیدار زور سے” لا الہ الا اللہ“ پڑھے اور اس کا مقصد اپنے بیدار ہونے کی خبر دینا ہو، تو یہ بھی مکروہ ہے، کیوں کہ ان تمام صورتوں میں اللہ کے نام کو اپنی دنیوی غرض (دوسروں کو اطلاع کرنے) کے لیے استعمال کیا گیا ہے،اور یہ اس کے نام کی توہین ہے۔(۱)

اگر ٹیپ ریکارڈ (Tape record) لگانے کا مقصد یہ ہو کہ صبح سویرے طلبا کے کانوں میں قرآنِ کریم کی آواز پڑے،یا وہ کسی خاص قاری کے لہجے کو اپنالیں، تب بھی اس کے لیے ایسا وقت منتخب ومتعین کرناچاہیے، جس میں طلبہ مستعدو نشیط اور پوری طرح متوجہ ہوکر قرآنِ کریم کو سن سکیں، تاکہ قرآن کریم کی بے ادبی اور اس کی طرف بے توجہی وبے اعتنائی لازم نہ آئے۔(۲)

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : وقد کرهوا واللّٰه أعلم نحوه، لإعلام ختم الدرس حین یقرر۔ (در مختار) ۔ وفي الشامیة: قوله : (لإعلام ختم الدرس) فإنه استعمله آلة للإعلام ونحوه، إذا قال الداخل: یا اللّٰه مثلا لیعلم الجلاس بمجیئه، ولیهیوٴا له محلا، ویوٴقروه، وإذا قال الحارس: لا إله إلا اللّٰه لیعلم باستیقاظه، فلم یکن المقصود الذکر، أما إذا اجتمع القصدان یعتبر الغالب کما اعتبر في نظائره۔(۶۱۷/۹ ، کتاب الحظر والإباحة ، باب الاستبراء)

(۲) ما في ” الأشباه والنظائر لإبن نجیم “ : الأمور بمقاصدها ۔ (۱۱۳/۱)

ما في ” المقاصد الشرعیة للخادمي “: إن الوسیلة أو الذریعة تکون محرمة إذا کان المقصد محرمًا ، وتکون واجبة إذا کان المقصد واجبًا ۔ (ص/۴۶) فقط

والله أعلم بالصواب

کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی ۔۱۴۲۹/۱۱/۵ھ

 

اوپر تک سکرول کریں۔