طلبِ علم میں مشغول اولاد کا نفقہ

مسئلہ:

لڑکا جب بالغ ہوجائے تو اس کا نفقہ اس کے باپ پر واجب نہیں رہتا، بلکہ اس کا نفقہ خود اس کی ذات پر واجب ہے، کہ کسب وغیرہ کے ذریعہ اپنے نفقہ کا انتظام خود کرے،(۱) مگر اسلاف نے طلب علم میں واقعی مشغول ورشید بالغ لڑکے کے بقدر کفایت نفقہ کو اس کے باپ پر واجب کیا ہے، تاکہ کسب معاش میں مشغولیت علم دین کے حاصل کرنے میں رکاوٹ بن کر، علم دین ضائع نہ ہوجائے،(۲) لیکن طلباء اس کا غلط فائدہ اٹھاتے ہیں، کہ فضول وبے جا خرچ کرکے اپنے مصارف بڑھا لیتے ہیں، اور ان فضول وبے جا مصارف کو پورا کرنے کیلئے باپ کو منی آرڈر بھیجنے پر مجبور کرنے کیلئے ، مدرسہ چھوڑ دینے، تعلیم چھوڑ کر گھر آجانے، یا کسی اور جگہ چلے جانے کی دھمکی دے کر منی آرڈر منگواتے ہیں، شرعاً یہ عمل جائز نہیں ہے ۔

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما فی ” تنویر الأبصار وشرحه مع الشامیة “ : وتجب النفقة بأنواعها علی الحر لطفله الفقیر ۔ التنویر مع الدر ۔ وفي الشامی: قوله: (الفقیر) أی إن لم یبلغ حد الکسب، فإن بلغه کان للأب أن یؤجره أو یدفعه فی حرفة لیکتسب، وینفق علیه من کسبه لو کان ذکراً، بخلاف الأنثیٰ۔

(۲۶۸/۵، کتاب الطلاق ، باب النفقة ، مطلب الصغیر والمکتسب نفقة في کسبه لا علی أبیه)

ما فی ” الهدایة “ : الأصل أن نفقة الإنسان فی مال نفسه صغیراً کان أو کبیراً۔(۴۴۵/۲، باب النفقة، قبیل فصل فی من یجب النفقة)

(۲) ما فی ” تنویر الأبصار وشرحه مع الشامیة “ : وکذا تجب لولده الکبیر العاجز عن الکسب  ۔۔۔۔۔ وطالب علم لا یتفرغ لذلک، کذا فی الزیلعی والعینی، وأفتی أبوحامد بعدمها لطلبة زماننا کما بسطه فی القنیة، ولذا قیده فی الخلاصة بذی رشد ۔ التنویر مع الدر ۔ وفي الشامی: قوله: (کما بسطه فی القنیة) حاصله أن السلف قالوا بوجوب نفقته علی الأب، لکن أفتی أبوحامد بعدمه لفساد أحوال أکثرهم، ومن کان بخلافهم نادر فی هذا الزمان، فلا یفرد بالحکم دفعاً للحرج التمییز بین المصلح والمفسد، قال صاحب القنیة: لکن بعد الفتنة العامة، یعنی فتنة التاتار التی ذهب بها أکثر العلماء والمتعلمین، نری المشتغلین بالفقه والأدب اللذین هما قواعد الدین وأصول کلام العرب یمنعهم الاشتغال بالکسب عن التحصیل، ویؤدی إلی ضیاع العلم والتعطیل، فکان المختار الآن قول السلف ۔۔۔۔ وقال: أقول: الحق الذی تقبله الطباع المستقیمة ولا تنفر منه الأذواق السلیمة القول بوجوبها لذی الرشد لا غیره، ولا حرج فی التمییز بین المصلح والمفسد لظهور مسالک الاستقامة وتمییزه عن غیره۔ وبالله التوفیق۔

(۲۷۰/۵۔۲۷۱، باب النفقة، مطلب الکلام علی نفقة الأقارب، دار الکتاب دیوبند)

اوپر تک سکرول کریں۔