مسئلہ:
اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے ظہار کرلے، یعنی اس کو اپنی محرمات ابدیہ (جن عورتوں کے ساتھ نکاح کرنا ہمیشہ کیلئے حرام ہے) میں سے کسی کے ایسے عضو سے تشبیہ دے جس کا دیکھنا اس کیلئے حرام ہے، مثلاً یوں کہے: ” أنت عليّ کظهر أمي “ ”تو میرے حق میں میری ماں کی پشت کی طرح ہے“ تو یہ شخص مظاہر کہلائیگا، اور اس کیلئے اپنی بیوی سے اس وقت تک ازدواجی تعلقات قائم کرنا حلال نہیں ہوگا جب تک کہ وہ کفارہٴ ظہارادا نہ کرے۔(۱)
کفارہٴ ظہار کے سلسلے میں شریعت کا حکم یہ ہے کہ اگر غلام آزاد کرنے پر قادر ہو تو غلام آزاد کرے، ورنہ دو مہینے لگاتار روزے رکھے، اور اگر اس کی قدرت نہیں تو ساٹھ مسکینوں کو دو وقت پیٹ بھر کر کھانا کھلادے، عامةً لوگ روزہ پر قدرت کے باوجود ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاکر کفارہ ادا کرتے ہیں، جبکہ یہ کفارہ صحیح نہیں ہوتا، کیوں کہ کھانا کھلاکر کفارہ کی ادائیگی کے صحیح ہونے کیلئے روزہ سے عاجز ہونا شرط ہے۔(۲)
الحجة علی ما قلنا :
(۱)ما فی ” القرآن الکریم “ : ﴿والذین یظاهرون من نسائهم ثم یعودون لما قالوا فتحریر رقبة من قبل أن یتماسا، ذلکم توعظون به والله بما تعملون خبیر، فمن لم یجد فصیام شهرین متتابعین من قبل أن یتماسا فمن لم یستطع فإطعام ستین مسکیناً﴾ ۔(سورة المجادلة:۳۔۴)
ما فی” أحکام القرآن لظفر أحمد التھانوی “ : قال أبوبکر : لما قال : ﴿والذین یظاهرون من نسائهم﴾ فألزمه حکم التحریم تشبیه بظهرها وجب أن یکون ذلک التحریم عاماً فی المباشرة والجماع، وأیضاً حدثنا أبوداود عن عکرمة أن رجلاً ظاهر من امرأته ثم واقعها قبل أن یکفر، فأتی النبی ﷺ فأخبره قال : ” فاعتزلها حتی تکفر “ ۔ (۱۷/۵)
ما فی ” بدائع الصنائع“: حکم الظهار منها : حرمة الوطی قبل التکفیر لقوله تعالی: ﴿والذین یظاهرون من نسائهم ثم یعودون لما قالوا فتحریر رقبة من قبل أن یتماسا﴾۔۔۔۔۔ أمر المظاهر بتحریر رقبة قبل المسیس، فلو لم یحرم الوطء قبل المسیس لم یکن للأمر بتقدیم التحریر قبل المسیس۔ (۳۷۰/۳،کتاب الظهار، فصل حکم الظهار)
(۲) ما فی ” الموسوعة الفقهیة “ : ذهب الحنفیة والشافعیة والحنابلة إلی أن کلا من کفارة الصوم والظهار والقتل مرتبة ابتداء وانتهاء، فعلی المکفر أن یعتق رقبة إذا استطاع إلی ذلک سبیلا، فإن لم یجد بأن لم یتیسر له ذلک حساً کأن یکون فی مسافة القصر، أو شرعاً کأن لم یقدر علی ثمنها زائداً علی ما یفی بموٴنة فعلیه صیام شهرین متتابعین، فإن عجز المظاهر أو المجامع فی نهار رمضان عن الصوم أو مرض أو خاف من الصوم زیادة مرض فعلیه إطعام ستین مسکیناً۔ (۱۰۴/۳۵)
ما فی ” عمدة القاری “ : الترتیب فی الکفارة واجب، فتحریر رقبة أولاً، فإن لم یوجد فصیام شهرین، وإن لم یستطع الصوم فإطعام ستین مسکیناً، بدلیل عطف بعض الجمل علی البعض بالفاء المرتبة المعقبة ۔ (۳۹/۱۱، کتاب الصوم ، باب إذا جامع فی رمضان)
ما فی ” الدر المختار مع الشامي“:إن عجز عن الصوم لمرض لا یرجی برءه أو کبر أطعم أي ملک ستین مسکیناً ۔ در مختار۔ قال الشامی تحت قوله: (یرجی برءه) فلو برئ وجب الصوم۔ (۱۱۳/۵، کتاب الطلاق، باب الکفارة، الفتاوی الهندیة:۲۰۷/۱، الباب الخامس فی الأعذار التی تبیح الإفطار)
