مسئلہ:
بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ جس طرح عدتِ طلاق میں عورت نفقہ کی مستحق ہوتی ہے، ایسے ہی عدتِ وفات میں بھی شوہر کے چھوڑے ہوئے مال میں نفقہ کی مستحق ہوگی، جب کہ ان کا یہ خیال غلط ہے، کیوں کہ نفقہ حقِ مہر کی طرح محض عقد سے یکبارگی لازم نہیں ہوتا، بلکہ علی حسب الضرورت گاہے بہ گاہے لازم ہوتا ہے، اورجب تک شوہر زندہ تھا ضرورت کے مطابق نفقہ ادا کرتا رہا، اور جب اس کا انتقال ہوگیا تو اس کی تمام جائداد کے مالک اس کے ورثاء ہوگئے، اور ورثاء کے مال میں نفقہ کو لازم کرنا جائز نہیں ہے، نیز عورت کا عدتِ وفات گذارنا بھی حقِ زوج کیلئے نہیں ہے، کہ شوہر پر نفقہ کو لازم کیا جائے، بلکہ حقِ شرع کیلئے ہے، لہذا عدتِ وفات میں عورت، خواہ حاملہ ہو یا غیر حاملہ نفقہ کی مستحق نہیں ہوگی۔
الحجة علی ما قلنا :
ما فی ” بدائع الصنائع “ : إن کانت معتدة عن وفاة فلا سکنیٰ لها ولا نفقة فی مال الزوج، سواء کانت حائلاً أو حاملاً، فإن النفقة فی باب النکاح لا تجب بعقد النکاح دفعة واحدة کالمهر، وإنما تجب شیئاً فشیئاً علی حسب مرور الزمان، فإذا مات الزوج انتقل ملک أمواله إلی الورثة، فلا یجوز أن تجب النفقة والسکنیٰ فی مال ا لورثة۔
(۴۷۹/۴، کتاب الطلاق، فصل فی أحکام العدة)
ما فی ” الهدایة “ : ولا نفقة للمتوفی عنها زوجها، لأن احتباسها لیس لحق الزوج بل لحق الشرع فإن التربص عبارة منها، ألا تری أن معنی عن براءة الرحم لیس بمراعی فیه حتی لا یشترط فیه الحیض فلا تجب نفقتها علیه، ولأن النفقة تجب شیئاً فشیئاً ولا ملک له بعد الموت، فلا یمکن إیجابها فی ملک الورثة۔ (۴۴۳/۲۔۴۴۴، کتاب الطلاق، باب النفقة)
ما فی ” البحر الرائق “ : قال ابن نجیم تحت قوله: (وبموت أحدهما تسقط المقضیة) أی بموت أحد الزوجین تسقط النفقة المقضی بها، لأن النفقة صلة، والصلات تسقط بالموت کالهبة والدیة والجزیة وضمان العتق۔ (۳۲۰/۴، کتاب الطلاق، باب النفقة)
ما فی ” الدر المختار “ : لا نفقة لأحد عشر۔۔۔۔۔۔۔۔ومعتدة موت۔(۲۸۶/۵، کتاب الطلاق، باب النفقة)
(فتاوی دارالعلوم : ۱۱۵/۱۱)
