عدمِ تملیک کی صورت میں زکوة کی ادائیگی!

(فتویٰ نمبر: ۱۹۰)

سوال:

کئی سال قبل زکوة کے روپیوں سے مسجدومدرسہ بنانے کے لیے زمین خریدی گئی تھی، اور زکوة کے روپیوں کا کسی کو مالک نہیں بنایاگیاتھا،توکیا اس صورت میں اس زمین پر مسجدومدرسہ بناسکتے ہیں؟ نیز زکوة کا مالک نہ بنانے کی صورت میں زکوة دینے والوں کی زکوة ادا ہوئی یا نہیں؟

الجواب وباللہ التوفیق:

صورتِ مسئولہ میں زکوة کی ادائیگی صحیح ہونے کی شرط ”تملیک“ نہیں پائی گئی؛ اس لیے زکوة دینے والوں کی زکوة ادا نہیں ہوئی، اُن پر لازم ہے کہ وہ اپنی زکوة دوبارہ ادا کریں۔(۱)

زکوة کی رقم سے خرید ی ہوئی اس زمین پر مسجد ومدرسہ بنانے کی صورت یہ ہوسکتی ہے کہ جن جن لوگوں کی زکوة کی رقم سے یہ زمین خریدی گئی تھی، چوں کہ وہی لوگ اپنی اپنی رقم کے بقدر حصہٴ زمین کے مالک ہیں، اگر ان میں سے ہر ایک اپنا اپنا حصہٴ زمین مسجد یا مدرسہ کے لیے وقف کردیں ،تو اس زمین پر مسجد یا مدرسہ بناسکتے ہیں۔(۲)

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما في ” الفتاوی الهندیة “ : أما تفسیرها فهي تملیک المال من فقیر مسلم غیر هاشمي ۔ (۱۷۰/۱)

وما في ” الفتاوی الهندیة “ : ولا یجوز أن یبنی بالزکاة المسجد ، وکذا القناطر والسقایات وإصلاح الطرقات وکری الأنهار والحج والجهاد ، وکل ما لا تملیک فیه ۔ (۱۸۸/۱)

ما في ” التنویر مع الدر والرد “ :ویشترط أن یکون الصرف تملیکًا لا إباحة کما مر لا یصرف إلی بناء نحو مسجد ولا إلی کفن میت وقضاء دینه ۔ (تنویر) ۔ (۲۶۳/۳)

ما في ” رد المحتار “ : قوله : (تملیکًا) فلا یکفي فیها الإطعام إلا بطریق التملیک ، ولو أطعمه عنده ناویًا الزکاة لا تکفي ۔۔۔۔۔۔ (نحو مسجد) کبناء القناطر والسقایات وإصلاح الطرقات وکری الأنهار والحج والجهاد ، وکل ما لا تملیک فیه ۔ (۲۶۳/۳ ، کتاب الزکاة ، باب المصرف ، البحر الرائق :۴۲۴/۲)

(۲) ما في ” الموسوعة الفقهیة “ : لا یحل لمن لیس من أهل الزکاة أخذها وهو یعلم أنها زکاة إجماعًا ، فإن أخذها فلم تسترد منه فلا تطیب له بل یردها أو یتصدق بها لأنها علیه حرام ۔ (۳۳۳/۲۳) فقط

والله أعلم بالصواب

کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی ۔۱۴۳۰/۲/۲۷ھ 

اوپر تک سکرول کریں۔