عقدِ شرکت میں تقسیمِ منافع کی ایک صورت!

(فتویٰ نمبر:۳۲)

سوال:

زید اور عمرو نے اسی ہزار کی رقم سے ایک کرانہ دوکان شروع کی، اب ہر ہفتہ کم از کم پانچ یا چھ ہزار کی آمدنی ہوتی ہے، مگر ہفتے میں کسی ایک دن دوکان کے لیے پانچ یا چھ ہزار کا مال بھی نقد یا اُدھار لانا پڑتا ہے، ایسی صورت میں مہینے کے ختم پر کوئی نفع سامنے نہیں آرہا ہے، صرف دوکان کے مال میں اضافہ ہوتا ہے، اب اگر روزانہ کی آمدنی میں سے مثلاً: پانچ سو روپے پر پچاس،اور ہزار روپے پر سوروپے اگر نکال کر الگ الگ رکھیں، اور مہینے کے آخر میں اس رقم کو تقسیم کریں،تو شریعت اس کی اجازت دیتی ہے یا نہیں؟

الجواب وباللہ التوفیق:

عقدِ شرکت میں تقسیمِ منافع کی یہ صورت شرعاً جائز ہے، کیوں کہ کاروبار کے تمام اثاثے خواہ کسی بھی شکل میں ہوں، شرکا کی مشترک ملکیت میں ہوتے ہیں؛ اس لیے وہ جب اور جس طرح چاہیں ان اثاثوں اور ان سے حاصل ہونے والے منافع کو طے شدہ شرح کے مطابق تقسیم کرسکتے ہیں، علامہ ابن قدامہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ” ولنا علی جواز القسمة أن المال لهما فجاز لهما أن یقتسما بعضه کالشریکین أو نقول : إنهما شریکان فجاز لهما قسمة الربح قبل المفاصلة کشریکي العنان “ ۔ (المغني علی مختصر الخرقي :۴۰/۵)

البتہ تقسیمِ منافع کے باہم معاہدے کے وقت اتنا خیال ضرور رہے کہ ایسی شرط نہ لگائیں، جو شریعت کے محرم کو محلل یا محلل کو محرم کردے، یا کسی ایک فریق کا ہی نفع یا نقصان ہو، مثلاً: یہ کہ ہر مہینے مجھے ایک ہزار نفع ملے گا، خواہ نفع تھوڑا ہو یا زیادہ، اس صورت میں فریقین میں سے ہر ایک کا ظالم یا ضارّ بننا لازم آتا ہے، جو عقدِ شرکت کی وجہِ مشروعیت کے منافی ہے۔

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما في ” جامع الترمذي “ : ” المسلمون علی شروطهم إلا شرطًا حرم حلالا أو أحل حرامًا “۔

(۲۵۱/۱، ط: قدیمي، و: ۳۴۳/۲، ط: بیروت، السنن الکبری للبیهقي: ۷۹/۶، سنن أبي داود : ص/۵۰۶ ، بذل المجهود في حل سنن أبي داود: ۳۱۹/۱۱)

ما في ” مجمع الزوائد “ : عن میمونة – رضي اللّٰه عنها – قالت : ما خرج رسول اللّٰه ﷺ من بیتي قط إلا رفع طرفه إلی السماء فقال : ” اللّٰهم إني أعوذبک أن أَضِلَّ أو أُضَلَّ ، أو أَزِلَّ أو أُزَلَّ ، أو أَجْهلَ أو یُجْهلَ عَلَيَّ ، أو أَظْلِمَ أو أُظْلَمَ “ ۔(۱۳۳/۱۰ ، کتاب الأذکار ، باب ما یقول إذا دخل منزله وإذا خرج منه ، رقم : ۱۷۰۸۰ ، ط : بیروت)

ما في ” جامع الترمذي “ : ” اللّٰهم إنا نعوذ بک من أن نزل أو نضل ، أو نظلم ، أو یجهل أو یجهل علینا “ ۔ هذا حدیث حسن صحیح ۔

(۱۸۱/۲ ، أبواب الدعوات، باب ما جاء ما یقول إذا خرج من بیته ، سنن ابن ماجة : ص/۲۷۷ ، أبواب الدعوات ، باب ما یدعو به الرجل إذا خرج من بیته ، سنن النسائي : ۲۶۷/۲، کتاب الاستعاذة ، الاستعاذة من الذلة)

ما في ” السنن لابن ماجة “ : عن عبادة بن الصامت – رضي اللّٰه عنه – أن رسول اللّٰه ﷺ قضی أن ”لا ضرر ولا ضرار “ ۔ وعن ابن عباس قال : قال رسول اللّٰه ﷺ : ” لا ضرر ولا إضرار “ ۔

(ص/۱۶۹ ، أبواب الأحکام ، باب من بنی في حقه ما یضر بجاره ، درر الحکام شرح مجلة الأحکام : ۳۶/۱ ، المادة : ۱۹ ، قواعد الفقه : ص/۱۰۶ ، رقم المادة :۲۵۲) فقط

والله أعلم بالصواب

کتبه العبد : محمد جعفر ملی رحمانی ۔۱۴۲۹/۳/۳ھ 

اوپر تک سکرول کریں۔