عقدِ شرکت میں منافع کی تقسیم کا شرعی حکم

( فتویٰ نمبر: ۵۸)

سوال:

میں ایک سِول انجینئرہوں( Civil Engineer)ہوں، اور جب کوئی کام گورنمنٹ کا مجھے ملتا ہے ،تو اس کام کو مکمل کرنے کے لیے پیسوں کی ضرورت ہوتی ہے، اور اس کام کے لیے فائنانسر( Financers) ہمارے کام میں پیسے لگاتاہے۔

جو کام گورنمنٹ(Govt) ہمیں دیتی ہے، اس کام میں گورنمنٹ(Govt)ہمیں ۱۰/ فی صد نفع دیتی ہے،اور یہ دس فی صد نفع پہلے ہی ٹینڈر (Tender)میں ظاہر کردیتی ہے، اور ہم اس ظاہر کیے ہوئے نفع کی بنیاد پرفائنانسرس (Financers) کا نفع بھی پہلے ہی سے متعین کر دیتے ہیں،اس کام میں نفع یا نقصان میں کمی اس وقت ہوگی جب ہم کام کو اچھی طریقے سے نہ کریں، یعنی صحیح مٹیریل (Material)صحیح وقت پر نہ پہنچے، کبھی زیادہ منگالیں یا کبھی ضرورت سے بہت کم، یعنی بے توجہی کی وجہ سے نقصان یا نفع میں کمی ہونے کا اندیشہ ہوتاہے، توکیا اس طریقے سے پہلے ہی نفع طے کردینا جائز ہوگا؟مثلاً:ایک کام جس کی لاگت 100000/ایک لاکھ روپے ہوں، ایک فائنانسر (Financers) نے پچاس ہزار 50000/روپے ہمارے اس کام میں لگائے، لیکن ہمارے ضابطے کے مطابق 100000/ پر %10/گورنمنٹ (Govt)کی طرف سے نفع ملتا ہے، یعنی دس ہزار 10000، ہم ان 10000/پر %30/یا %40،یعنی 3000/یا4000/ پہلے ہی طے کردیں گے،لیکن پریکٹکلی (Practically)یہ نفع کبھی %10، توکبھی%12، تو کبھی %8/کچھ بھی ہو سکتاہے، ہمارے کام کرنے کے طریقے پر منحصر ہوتا ہے، یعنی مکمل دھیان سے کام کیا، تو نفع%15/ تک بھی پہنچ جاتاہے۔

الجواب وباللہ التوفیق:

۱-سوال میں مذکورہ صورت عقدِ شرکت کی ہے، اور عقدِ شرکت کے صحیح ہونے کے لیے تمام شرکا کا نفع ونقصان میں شریک ہونا ضروری ہے۔

۲– اگر کوئی شریک یہ شرط لگائے کہ میں نفع میں تو شریک رہوں گا، مگر نقصان میں نہیں، تو اس طرح عقدِ شرکت کرنے سے عقدِ شرکت تو صحیح ہوگا، مگر شرط فاسد ہوگی، یعنی اس کا اعتبار نہیں ہوگا اور شرکا نقصان میں سرمایہ کاری کے تناسب سے شریک ہوں گے۔

۳-عقدِ شرکت میں ہر شریک کے رأس المال کے تناسب کو تقسیمِ منافع کی بنیاد بنانے کے بجائے نفع کی ایک خاص مقدار کو کسی ایک شریک کے لیے متعین کرنا درست نہیں ہے،کیوں کہ ممکن ہے منافع حاصل ہی نہ ہوں، یا کم مقدار میں ہوں، یا محض اتنی ہی مقدارمیں ہوں جو کسی ایک شریک کے لیے پہلے سے متعین ہیں، تو اس صورت میں محض ایک شریک کا فائد ہ ہوگا، اور دوسراشریک کام کر کے بھی نفع سے محروم رہے گا،جب کہ یہ اسلام کے نظامِ عدل کے خلاف ہے۔

تقسیمِ منافع کی صحیح صورت یہ ہو سکتی ہے کہ بوقتِ عقد آپس میں یہ طے کر لیں کہ جو بھی منافع حاصل ہوں، خواہ وہ کسی بھی مقدار میں ہوں، اس میں سے اتنا فی صد ایک شریک کے لیے ہوگا اور اتنا فی صد دوسرے شریک کے لیے،اگر اس طرح کیا جاتاہے، تو یہ شرکت صحیح ہے، ورنہ جائز نہیں ہے۔

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما في ” الفتاوی التاتارخانیة “ : وإن شرطا أن یکون الربح والوضیعة بینهما نصفین، فشرط الوضیعة بصفة فاسد، ولکن بهذا لا یبطل الشرکة؛ لأن الشرکة لا تبطل بالشروط الفاسدة، وإن وضعا فالوضیعة علی قدر رأس مالهما۔ (۳۵۱/۴، کتاب الشرکة، المحیط البرهاني: ۴۰۱/۶)

ما في ” فتح القدیر “: الربح علی ما شرطا، والوضیعة علی قدر المالین۔ (۱۶۵/۶، کتاب الشرکة)

ما في ” بدائع الصنائع “ : ومنها أن یکون الربح جزءً شائعًا في الجملة لا معینًا، فإن عینا عشرة أو مائة أو نحو ذلک، کانت الشرکة فاسدة ؛ لأن العقد یقتضي تحقق الشرکة في الربح، والتعیین یقطع الشرکة لجواز أن یحصل من الربح إلا هذا القدر المعین لأحدهما ، فلا یتحقق الشرکة في الربح ۔(۵۰۹/۷ ، کتاب الشرکة ، فصل في شروط جواز هذه الأنواع)

ما في ” الهدایة “ : ولا یجوز الشرکة إذا شرط لأحدهما دراهم مسماة من الربح ؛ لأنه یوجب انقطاع الشرکة فعساه لا یخرج إلا قدر المسمی لأحدهما ۔ (۶۱۲/۲) فقط

والله أعلم بالصواب

کتبه العبد:محمد جعفرملی رحمانی۔۱۴۲۹/۴/۱۶ھ

الجواب صحیح : عبد القیوم اشاعتی ۔۱۴۲۹/۴/۱۶ھ 

اوپر تک سکرول کریں۔