(فتویٰ نمبر: ۱۶۱)
سوال:
ز ید اور بکر کے درمیان معاہدہ(Contract) ہوا، زید نے بکر سے کہا کہ یہ جو زمین ہے اس کے مالک سے مل کر بات کرو، اور مناسب قیمت پر وہ زمین خرید لو، رقم پوری کی پوری میں دوں گا، اور تم صرف محنت کرو زمین خریدنے کے بعد ہم اس پر ایک شاپنگ سینٹر بناکر اس کو بیچ دیں گے،اور جو بھی نفع ہوگا اس میں سے ہم دونوں ۵۰ / ۵۰/فی صد کے حصے دار ہوں گے، بکر نے زید پر بھروسہ کرتے ہوئے کہ وہ ایک دین دار شخص ہے اس کو تحریری شکل نہیں دی، اب بکرنے وہ زمین خرید لی اور اس کو صاف کروایا، زمین ناہموار ہونے کی وجہ سے مٹی ڈلواکر اس کو برابر کروایا،اور شاپنگ سینٹر (Shopping Center)کے لیے نقشہ وغیرہ بھی تیار کروایا،اس درمیان میں زید نے بکر کو مطلع کیے بغیر وہ زمین کسی دوسری پارٹی(Party) کو بیچ دی، جس میں اس کو ۲۰/ لاکھ روپے نفع ہوا، جب بکر کو معلوم ہوا تو اس نے زید سے معاہدے کے مطابق نفع میں سے ۵۰/ فی صد حصہ طلب کیا،تو زید نے دینے سے انکار کردیا اور کہا کہ رقم پوری میں نے لگائی تھی؛ اس لیے آپ کو کچھ بھی نہیں مل سکتا ، تو شریعتِ مطہرہ اس کے بارے میں کیا فرماتی ہے ؟
الجواب وباللہ التوفیق:
صورتِ مسئولہ میں بکر ۵۰/ فی صد حصہٴ نفع کا حق دا ر ہے؛ اس لیے زید پر لازم ہے کہ معاہدے کے مطابق ۵۰/ فی صد حصہٴ نفع بکر کو ادا کردے(۱)، ورنہ غلط طریقے سے دوسرے کے مال کھانے (۲)،اور بد عہدی کا مرتکب ہونے کی وجہ سے سخت گنہگار ہوگا۔(۳)
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما في ” الهدایة “ :المضاربة في الشرع عبارة عن عقد الشرکة بمال من أحد الجانبین، والعمل من جانب الآخر، ورکنها الإیجاب والقبول، وحکمه الوکالة عند الدفع والشرکة بعد الربح ۔ (۲۵۷/۳ ، کتاب المضاربة)
ما في ” الهدایة “ : وإذا ربح فهو شریک فیه لتملکه جزء من المال بعمله ۔ (۲۵۷/۳)
ما في ” الهدایة “ : المضارب یستحق الربح بسعیه وعمله ۔ (۲۵۷/۳)
(۲) ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿یٰأَیُّها الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَأْکُلُوٓا أَمْوَالَکُمْ بَیْنَکُمْ بِالْبَاطِلِ﴾۔(سورة النساء : ۲۹)
ما في ” أحکام القرآن للجصاص “ : قال أبو بکر : قد انتظم هذا العموم النهي عن أکل مال الغیر بالباطل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قد قیل فیه وجهان : أحدهما ما قال السدي : وهو أن یأکل بالربوا والقمار والبخس والظلم ۔ (۲۱۶/۲)
(۳) ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿یٰأَیُّها الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا أَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ﴾ ۔ (سورة المائدة:۱)
ما في ” أحکام القرآن للجصاص “ : وقد اشتمل قوله تعالی : ﴿یٰأَیُّها الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا أَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ﴾ علی إلزام الوفاء بالعهود والذمم التي نعقدها لأهل الحرب وأهل الذمة وغیرهم من سائر الناس، وعلی إلزام الوفاء بالنذر والأیمان۔ (۳۱۷/۲، شرط انعقاد البر، ط: مکتبة شیخ الهند دیوبند)
ما في ” صحیح البخاري “ : قال النبي ﷺ : ” أربع من کن فیه منافقًا خالصًا من کانت فیه خصلة منهن کانت فیه خصلة من النفاق حتی یدعها : إذا اوٴتمن خان، وإذا حدث کذب، وإذا عاهد غدر ، وإذا خاصم فجر “ ۔ (۱۰/۱ ، کتاب الإیمان، باب علامة المنافق) فقط
والله أعلم بالصواب
کتبه العبد : محمد جعفر ملی رحمانی ۔۱۴۳۰/۱/۳ھ
