عقدِ نکاح کو مطالبات پر موقوف کرنا کیسا ہے؟

مسئلہ:

بعض علاقوں میں یہ دستور اور رواج ہے کہ جب لڑکے کی طرف سے کسی جگہ نکاح کا پیغام دیا جاتا ہے، تو لڑکی والوں کی طرف سے ایک رقم کا مطالبہ ”جہیز“ کے نام سے ہوتا ہے، لڑکی والے رقم وصول کرکے اس رقم سے دعوت اور لڑکی کے کپڑوں وغیرہ کا انتظام کرتے ہیں، اسی طرح بعض علاقوں میں جب لڑکی والوں کی طرف سے کسی جگہ نکاح کا پیغام دیا جاتا ہے، تو لڑکے والوں کی طرف سے کسی رقم یا پھر گھڑی ، ریڈیو ، موٹر سائیکل ، صوفا سیٹ وغیرہ کا مطالبہ ہوتا ہے … عقدِ نکاح کو ان مطالبات پر موقوف کرنا ، یہ شبہ پیدا کرتا ہے کہ اصل مقصود مال واسباب ہے نہ کہ عقدِ نکاح، او رعقدِ نکاح کو اس مال واسباب کی تحصیل کا ذریعہ بنایا جارہا ہے، یہ طریقہ تعلیماتِ اسلام کے خلاف ہے، اور بیع کے مشابہ ہوکر مقصود کو غیر مقصود، اور غیر مقصود کو مقصود قرار دینا ہے، نکاح کے موقع پر لڑکی یا لڑکے والوں کی طرف سے مہر کے علاوہ کسی او رچیز کا مطالبہ کرنا اور اس کا لینا دینا رشوت ہے، اور رشوت شریعت میں حرام ہے(۱)، البتہ اگر لین دین کی شرط نہ کی جائے اور اس لین دین کا دستور بھی نہ ہو، اپنے ذہن میں یہ نہ سمجھتے ہوں کہ کچھ دیا جائے گا، یا کچھ لیا جائے گا، پھر کوئی تازہ رشتہ پر خوشی میں لڑکے کی طرف سے، یا لڑکی کی طرف سے کچھ دیدیا جائے ، تو ا س میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔(۲)

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما في ” رد المحتار مع الدر والتنویر “ : (أخذ أهل المرأة شیئًا عند التسلیم فللزوج أن یستردّه) لأنه رشوة ۔ الدر المختار ۔ وفي الشامیة: قوله: (عند التسلیم) أي بأن أبی أن یسلمها أخوها أو نحوه حتی یأخذ شیئًا، وکذا لو أبی أن یزوجها فللزوج الاسترداد قائمًا أو هالکًا، لأنه رشوة ۔ بزازیة ۔

(۳۰۷/۴، کتاب النکاح، باب المهر، مطلب فیما یرسله إلی الزوجة، بیروت)

(۲) ما في ” مشکوة المصابیح “ : عن أبي حرّة الرّقاشيّ، عن عمه (رضي الله عنه) قال: قال رسول الله ﷺ: ” ألا لا تظلموا ! ألا یحلّ مال امرئ إلا بطیب نفس منه “۔ رواه البیهقي في شعب الإیمان والدار قطني في المجتبی۔

(ص:۲۵۵، باب الغصب والعاریة، قدیمي، سنن الدارقطني: ۲۲/۳، کتاب البیوع، رقم الحدیث: ۲۸۶۲، جمع الجوامع:۷/۹، تتمة حرف اللام الألف، رقم الحدیث:۲۶۷۵۹)

ما في ” شرح المجلة لسلیم رستم باز “ : لیس لأحد أن یأخذ مال أحد بلا سبب شرعي ۔

(ص:۶۲، رقم المادة:۹۷، احیاء التراث العربي بیروت، البحر الرائق: ۱۹۸/۸، کتاب الغصب، بیروت)

(فتاویٰ رحیمیه:۲۳۳/۸، فتاویٰ امارتِ شرعیه:۳۵۹/۴)

اوپر تک سکرول کریں۔