مسئلہ:
بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ حضراتِ علماء کرام کو دعوتوں میں اکثر مرغی کا گوشت کھلایا جاتا ہے، کیا آپ ﷺ نے مرغی کھائی، اور کیا آپ ﷺ کے زمانے میں مرغیاں دستیاب تھیں؟… جواباً عرض ہے کہ – حضراتِ علماء کرام انبیاء علیہم السلام کے وارثین ہیں، اُن کا اکرام واعزاز لازم ہے، اور مہمان جس قدر عظیم ہوتا ہے، میزبان اسی قدر اس کی مہمانی ومیزبانی کا اہتمام کرتا ہے، علماء کو دعوتوں میں مرغی کا گوشت پیش کرنا یہ بھی اسی اکرام کا جزء ہے(۱)، رہی یہ بات ! کہ کیا آپ ﷺ نے مرغی کھائی؟ … تو ترمذی شریف کی یہ روایت کہ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے خود آپ ﷺ کو مرغی کا گوشت کھاتے ہوئے دیکھا-سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ ﷺ نے مرغی کا گوشت تناول فرمایا ہے۔(۲)
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿إني جاعلک للناس إمامًا﴾ ۔ (سورة البقرة:۱۳۴)
ما في ” أحکام القرآن للجصاص “ : وإذا ثبت أن اسم الإمامة یتناول ما ذکرناه، فالأنبیاء علیهم السلام في أعلی رتبة الإمامة ، ثم الخلفاء الراشدون بعد ذلک، ثم العلماء والقضاة العدول، ومن ألزم الله تعالی الاقتداء بهم، ثم الإمامة في الصلاة ونحوها۔ (۸۳۱/۱، مطلب في الحثّ علی نظافة البدن والثیاب)
(۲) ما في ” جامع الترمذي “ : عن أبي موسی قال: ” رأیتُ رسول الله ﷺ یأکل لحم دجاج “ – وفي الحدیث کلام أکثر من هذا، هذا حدیث حسن صحیح۔
(۴/۲، أبواب الأطعمة، باب ما جاء في أکل الدجاج)
(فتاویٰ بنوریہ ، رقم الفتویٰ : ۱۴۰۲۴)
