مسئلہ:
بعض لوگ کہتے ہیں کہ ”مولانا“ کا لفظ جو سورہٴ بقرہ کی آخری آیت ﴿أنت مولانا فانصرنا علی القوم الکافرین﴾ میں واقع ہے، جس کے معنی ”کارساز“ کے ہیں، تو علماء کیلئے لفظ ”مولانا“ کا استعمال صحیح نہیں ہونا چاہیے ،جب کہ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ لفظ ”مولانا“ عربی زبان کا لفظ ہے، لغوی اعتبار سے لفظ ”مولا“ بمعنی رب، مددگا، آقا، سردار، رہنما، غلام اور نوکر وغیرہ اور کئی مختلف متضاد معنی میں مستعمل ہے، اور ”نا“ جمع متکلم کی ضمیر ہے ، جو ”مولا“ کے ساتھ میں ہوتی ہے، اس طرح ان دونوں کے معنی ہمارے آقا، ہمارے سردار، ہمارے رہنما، اور ہمارے غلام وغیرہ کے آتے ہیں، جو ہر عبارت میں سیاق وسباق اور متعلقہ شخصیت کی حیثیت کے اعتبار سے موقع ومحل کی مناسبت سے مراد ہوتے ہیں، جبکہ سورہٴ بقرہ کی آیت ﴿أنت مولانا﴾ سے مراد کارساز یعنی متولی ٴامور کے ہیں،اور احادیث مبارکہ میں نبی کریم ﷺ نے حضرت زیدرضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمایا: ” أنت أخونا و مولانا “اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں بھی ایک صحیح حدیث میں منقول ہے کہ ان کے پاس ایک جماعت آئی اور کہنے لگی :”السلام علیک یا مولانا “۔
ان مواقع میں سے پہلے میں ، آزاد کردہ غلام، اور دوسرے میں سردار اور بڑے کے معنی مراد ہیں، اور علماء کیلئے عموماً احترام کے طور پر بڑے اور سردار کے معنی میں مستعمل ہیں، اس لئے بلا وجہ شک وشبہ میں پڑنے سے احتراز لازم ہے، اور علماء کیلئے اس لفظ (مولانا)کا استعمال جائز ودرست ہے ۔
الحجة علی ما قلنا :
ما فی ” مرقاة المفاتیح “ : المولی یقع علی جماعة کثیرة کالرب والمالک والسید والناصر والمعتق والمحب والجار ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وأکثرها قد جاء ت فی الأحادیث فیضاف کل واحد إلی ما یقتضیه الحدیث الوارد فیه ۔ (۲۴۷/۱۱)
ما فی ” روح المعانی “ : (أنت مولٰنا) أی مالکنا وسیدنا ، وجوز أن یکون بمعنی متولی الأمر وأصله مصدر أرید به الفاعل ۔ (۱۱۵/۳ ، سورة البقرة : ۲۸۶)
ما فی ” صحیح البخاری “ : قال البراء عن النبی ﷺ : ” أنت أخونا ومولانا “ ۔ (۵۲۸/۱ ، مناقب زید بن حارثة)
ما فی ” مرقاة المفاتیح “ : عن رباح بن الحارث قال : جاء رهط إلی علي بالرحیة فقالوا : ” السلام علیک یا مولانا “۔ فقال : کیف أکون مولاکم وأنتم عرب ؟ قالوا : سمعنا رسول الله ﷺ یقول: ” من کنت مولاه فعلی مولاه “ ۔ (۲۵۸/۱۱)
