مسئلہ:
کسی بھی فن میں پوری مہارت کے بغیر اس فن سے متعلق اظہارِ رائے معیوب وناپسندیدہ سمجھا جاتا ہے، مگر علم دین حاصل کیے بغیر دینی مسائل میں دخل دینے کو ناپسندیدہ نہیں سمجھا جاتا، اور کسی دلیلِ شرعی کے بغیر اتنا کہنے کو کافی سمجھا جاتا ہے کہ – ” ہمارا یہ خیال ہے“ – گویا دین انتہائی معمولی چیز ہے، اور اس میں ہر کَس وناکَس کو بدونِ دلیلِ شرعی دخل دینے کی اجازت ہے، معاشرہ میں یہ رُجحان بڑھتا ہی جارہا ہے، جو انتہائی معصیت اور بری بات ہے، آپ ﷺ نے اس کی پیش گوئی اِن الفاظ میں فرمائی تھی، کہ میری امت میں ۷۲/ فرقے ہوں گے، میری امت کا سب سے بڑا فتنہ یہ ہوگا کہ لوگ احکام ومسائل میں شرعی دلیل کے بغیر اپنی رائے سے قیاس کریں گے، حرام کو حلال اور حلال کو حرام کریں گے(۱)، بنی اسرائیل کا معاملہ درست رہا یہاں تک کہ ان میں ایسے لوگ پیدا ہوئے جنہوں نے شرعی دلیل کے بغیر رائے سے فیصلے کیے، خود گمراہ ہوئے ، دوسروں کو گمراہ کیا(۲)، — اِس لیے بغیر علم دین حاصل کیے، اور بغیر دلیلِ شرعی کے احکام ومسائل میں دخل دینے سے پرہیز کرنا انتہائی ضروری ہے۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” المعجم الکبیر للطبراني “ : عن عوف بن مالک عن النبي ﷺ قال: ”تفترق أمتي علی بضع وسبعین فرقة أعظمها فتنة علی أمتي قوم یَقیسون الأمور برأیهم، فیُحلّون الحرام ویُحرّمون الحلال “۔ (۴۱۵/۱۲، رقم الحدیث:۱۴۵۱۷)
ما في ” مشکوة المصابیح “ : عن عبد الله بن عمرو قال: قال رسول الله ﷺ: ” إن الله لا یقبض العلم انتزاعا ینتزعه من العباد، ولکن یقبض العلم بقبض العلماء حتی إذا لم یُبق عالما اتخد الناس روٴوسًا جهالا فسُئلوا فأفتَوا بغیر علم فضلّوا وأضلّوا “۔ متفق علیه۔ (۷۲/۱، کتاب العلم، الفصل الأول، رقم الحدیث:۲۰۶، ط: المکتب الإسلامي بیروت)
ما في ” سنن ابن ماجه “ : عن عبد الله بن عمرو بن العاص قال: سمعت رسول الله ﷺ یقول: ” لم یزل أمر بني اسرائیل معتدلا حتی نشأ فیهم المولّدون وأبناء سبایا الأمم فقالوا بالرأي ، فضلّوا وأضلّوا “۔(۳۸/۱، رقم الحدیث:۵۶، مسند البزار: ۴۰۲/۶، رقم الحدیث:۲۴۲۴)
ما في ” بوادر النوادر “ : (عن ابن سیرین) قال: أول من قال إبلیس وما عبدت الشمس والقمر إلا بالمقائیس ۔ للدارمي ۔ یعني قوله تعالی: ﴿خلقتني من نار وخلقته من طین﴾۔ (المراد بالقیاس الغیر الماخوذ من الشرع)۔ (من جمع الفوائد)۔ (ص:۶۷۴)
(فتویٰ کیسے لیں؟:ص/۳۱۔۳۲)
