عورت کی کمائی کے استعمال کا حکم شرعی

مسئلہ:

بعض عورتیں گھر میں رہتے ہوئے خرید وفروخت کا کچھ چھوٹا موٹا کام کرتی ہیں، اسی طرح بعض عورتیں ملازمت کی تمام شرطوں کا پاس ولحاظ رکھتے ہوئے ملازمت کرتی ہیں، تو ان کی اپنی آمدنی حلال ہوتی ہے، اب وہ اپنی اِس آمدنی میں سے کچھ رقم اپنے شوہر کو دیتی ہیں، تو بعض لوگ شوہر سے یہ کہتے ہیں کہ بیوی کی کمائی گھر والوں کے لیے استعمال کرنا جائز نہیں، ان کی یہ بات غلط ہے، صحیح بات یہ ہے اگر بیوی اپنی حلال آمدنی میں سے کچھ رقم اپنے شوہر کو اپنی رضامندی وخوشی سے دیتی ہے، تو شوہر کے لیے اس کا استعمال بلا شبہ جائزہے(۱)، ہاں! اگر بیوی کی آمدنی حرام ہو تو پھر اس کا استعمال صرف شوہر ہی کے لیے نہیں ، بلکہ خود بیوی کے لیے بھی ناجائز وحرام ہے۔(۲)

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما في ” درر الحکام “ : ” لا یجوز لأحد أن یأخذ مال أحد بلا سبب شرعي“۔(۹۸/۱، المادة:۹۸)

وفیه أیضًا : قد قیدت هذه المادة بقوله: ” بلا سبب شرعي “ لأنه بالأسباب الشرعیة کالبیع والإجارة والهبة والکفالة والحوالة یحق أخذ مال الغیر ۔۔۔۔ اه ۔

(۹۸/۱۔۹۶، المادة: ۹۸ ۹۶، ۷۷/۶، کتاب الحدود، باب التعزیر، مطلب في التعزیر بأخذ المال، البحر الرائق:۶۸/۵، کتاب الحدود، فصل في التعزیر)

(۲) ما في ” القرآن الکریم “ : قوله تعالی: ﴿یآیها الذین اٰمنوا لا تأکلوآ أموالکم بینکم بالباطل إلا أن تکون تجارة عن تراضٍ منکم ﴾۔ (سورة النساء: ۲۹)

ما في ” البحر المحیط لأبي حیان الغرناطي “ : قال أبوحیان الغرناطي: والباطل هوکل طریق لم تبحه الشریعة، فیدخل فیه السرقة، والخیانة، والغصب، والقمار، وعقود الربوا، وأثمان البیاعات الفاسدة۔ (۳۲۲/۳)

ما في ” الصحیح لمسلم “ : عن أبي هریرة قال: قال رسول الله ﷺ: ” أیها الناس! إن الله طیب لا یقبل إلا طیباً، وإن الله أمر المؤمنین بما أمر به المرسلین، فقال: ﴿أیها الرسل کلوا من الطیبٰت واعملوا صالحاً، إني بما تعملون علیم﴾ (المؤمنون:۵۱) وقال: ﴿یا أیها الذین اٰمنوا کلوا من طیبٰت ما رزقنٰکم﴾ (البقرة : ۱۷۳) ثم ذکر الرجل یطیل السفر، أشعث أغبر، یمدّ یدیه إلی السماء، یا رب، یارب، ومطعمه حرام، ومشربه حرام، وملبسه حرام، وغذي بالحرام، فأنی یستجاب لذلک“۔

(۳۳۷/۴، کتاب الزکاة، قبول الصدقة، جامع الترمذي: ۶۹/۴، تفسیر القرآن، رقم الحدیث:۲۹۸۹)

ما في” کنز العمال “ : عن ابن مسعود: ” من أکل لقمة من حرام لم تقبل له صلاة أربعین لیلة، ولم تستجب له دعوة أربعین صباحاً، وکل لحم نبت من الحرام فالنار أولی به، وإن اللقمة الواحدة من الحرام لتنبت اللحم “۔ (۸/۴ ،کتاب البیوع، رقم الحدیث: ۹۲۶۲)

ما في ” سنن الدار قطني “ : قوله علیه السلام : ” لا یحل مال امریٴٍ مسلم إلا بطیب نفس منه“۔

(۲۲/۳، کتاب البیوع، رقم الحدیث: ۲۸۶۲، مشکوة المصابیح:ص/۲۵۵، کتاب الغصب والعاریة، جمع الجوامع: ۷/۹، تتمة حرف اللام الألف، رقم الحدیث: ۲۶۷۵۹، السنن الکبری للبیهقي: ۱۶۶/۶، کتاب الغصب، شعب الإیمان للبیهقي: ۳۸۷/۴، رقم الحدیث: ۵۴۹۲، مسند الإمام أحمد بن حنبل: ۴۰۰/۱۵، رقم الحدیث: ۲۰۹۸۰)

اوپر تک سکرول کریں۔