عیدگاہ آبادی میں آجائے تو اسے فروخت کرنا

مسئلہ:

وقف شدہ عیدگاہ کے آبادی کے اندر آجانے کی وجہ سے نہ تو اسے فروخت کیا جاسکتا ہے، اور نہ اس میں کسی طرح کے تغیر وتبدل کی ضرورت ہے(۱)،بلکہ ضعفاء ، کمزوروں اور بیماروں کیلئے اسے باقی رکھا جائے۔(۲)

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما فی ” الشامیة “ : فإذا تم ولزم لا یملک ولا یملّک ولا یعار ولا یرهن، أی لا یکون مملوکاً لصاحبه، ولا یملک أی لا یقبل التملیک لغیره بالبیع ونحوه، لاستحالة تملیک الخارج عن ملکه۔(۴۲۱/۶ ، کتاب الوقف، البحر الرائق : ۳۴۲/۵ ، کتاب الوقف، مکتبة دار الکتاب بدیوبند)

ما فی ” الدر المختار مع الشامیة “ : شرط الواقف کنص الشارع أی فی المفهوم والدلالة ووجوب العمل به۔

(۶۴۹/۶، مطلب فی قولهم شرط الواقف کنص الشارع بیروت، الأشباه والنظائر لإبن نجیم : ۱۶۳، بیروت)

ما فی ” الشامیة “ : فإن شرائط الواقف معتبرة إذا لم تخالف الشرع وهو مالک، فله أن یجعل ماله حیث شاء ما لم یکن معصیة۔ (۵۲۷/۶، مطلب شرائط الواقف، بیروت)

(۲) ما فی ” الشامیة “ : وفی الخلاصة والخانیة: السنة أن یخرج الإمام إلی الجبانة ولیستخلف غیره لیصلی فی المصر بالضعفاء بناء علی أن صلاة العیدین فی موضعین جائزة بالاتفاق ۔(۴۹/۳ ، کتاب الصلاة، مطلب یطلق المستحب، فتاوی قاضیخان علی هامش الهندیة: ۱۸۳/۱، باب صلاة العیدین)

(فتاوی محمودیه :۳۲۹/۱۵)

اوپر تک سکرول کریں۔