غائب غیر مفقود الخبرشوہرکے متعلق صراحت!

(فتویٰ نمبر: ۱۱۶)

سوال:

ایک آدمی نے شادی کی اور کئی سالوں سے گھر نہیں آیا ہے، اتناتو معلوم ہے کہ وہ زندہ ہے مگر یہ معلوم نہیں کہ کس جگہ پر ہے؟ساتھیوں سے فون وغیرہ پر بات بھی کرتا ہے، تو اس کی عورت کیا کرے؟ جب کہ اس کا نفقہ شوہر کے والدین ہی پورا کررہے ہیں۔

الجواب وباللہ التوفیق:

سوال میں مذکورہ صورت” غائب غیر مفقود الخبر“کی ہے، اس مسئلے میں فقہا کی صراحت یہ ہے کہ اگر عورت کی کفالت کا کوئی معقول انتظام ہو،تو اسے فسخِ نکاح کی کوشش نہیں کرنی چاہیے (جب کہ عورت کا نفقہ شوہر کے والدین پورا کررہے ہیں)، لیکن اگر اس کے نان ونفقہ کا انتظام نہ ہو، یا انتظام تو ہو مگر عورت کے گناہ میں مبتلا ہونے کا خطرہ ہو، تو عورت قاضی کے پاس ”غائب غیر مفقود الخبر“ شوہر کے متعلق بربنائے عدمِ ادائیگی ٴ نفقہ وحقِ زوجیت وغیرہ تفریق کے لیے درخواست دے، اور قاضی کو چاہیے کہ اس مقدمے کی کارروائی میں مندرجہ ذیل اُمور کو پیشِ نظر رکھیں:

(۱) عورت دو گواہوں سے ”غائب غیر مفقود الخبر“شوہر کے ساتھ اپنا نکاح ثابت کرے۔

(۲) پھر یہ کہ وہ نفقہ دے کر نہیں گیا۔

(۳) نہ وہاں سے نفقہ بھیجا۔

(۴) نہ یہاں کچھ انتظام کرکے گیا۔

(۵) اس کے بعد اگر قاضی کے سامنے اس کے نفقہ کی کوئی کفالت کرلے توخیر! ورنہ اس ”غائب غیر مفقود الخبر“ شوہر کے پاس یہ حکم نامہ بھیجے:”خود آکر اپنی بیوی کے حقوق ادا کرو، یا اس کو بلالو، یا وہیں سے کوئی انتظام کرو، یا اس کو طلاق دے دو، ورنہ ہم خود تم دونوں میں تفریق کردیں گے “۔

اگر شوہر اس پر بھی کوئی صورت اختیار نہ کرے، تو قاضی ایک ماہ کی مہلت کے بعد تفریق کردے، بشرطیکہ اس مدت میں شکایت رفع نہ ہوئی ہو، اور اگر شوہر کسی ایسی جگہ پر ہو جہاں حکم نامہ بھیجنا ممکن نہ ہو، تو اس کی بھی گنجائش ہے کہ بغیر حکم بھیجے قاضی بعد تحقیق حسبِ قواعدِ مذکورہ تفریق کردے، مگر خوفِ زنا کے دعوی میں یہ شرط ہے کہ ایک سال کی مدت گزرچکی ہو، اور یہ تفریق بحکم طلاقِ رجعی ہوگی؛ لہٰذا اگر عدت کے اندر غائب آکر حقوقِ زوجیت ادا کرنے پر آمادہ ہوگیا، تو اسے رجوع کا اختیار ہے خواہ عورت راضی ہو یا نہ ہو، اور اگر عدت گزرنے کے بعد آیا، تو اس کی دوصورتیں ہیں:

(۱) اول یہ کہ آنے کے بعد اس نے عورت کے دعوے کے خلاف شہادت سے یہ ثابت کردیا کہ میں نے اس کو پیشگی خرچ دے دیا تھا، یا یہ کہ وہاں سے بھیجتا رہا تھا،یا یہ کہ عورت نے نفقہ معاف کردیا تھا، یا یہ کہ میری فلاں جائداد سے یہ فائدہ اُٹھاتی رہی۔

(۲) دوم یہ کہ اس نے عورت کے دعوے کے خلاف کوئی بات ثابت نہیں کی۔

پہلی صورت کا حکم یہ ہے کہ ہرحال میں عورت اسی کو ملے گی، اگرچہ عورت نے دوسری جگہ نکاح کرلیا ہو، اور اس سے بچے بھی پیداہوگئے ہوں، شوہرِ ثانی کا نکاح اب باطل قراردیا جائے گا، البتہ بچے شوہرِ ثانی ہی کے ہوں گے، نیز پہلے شوہر کی بیوی ہونے میں نہ تجدیدِ نکاح کی ضرورت ہے، نہ تجدیدِ مہر کی، البتہ شوہرِ ثانی سے خلوت ہو چکی ہو، تو عدت واجب ہوگی، اور عدت پہلے شوہر کے پاس گزارنی ہوگی، اور عدت گزارنے سے پہلے شوہر اول کے لیے جماع اور دواعی ٴ جماع کا ارتکاب جائز نہ ہوگا، نیز وہ دوسرے شوہر سے مہر پانے کی حق دار بھی ہوگی، اور اگر خلوتِ صحیحہ نہ ہوئی ہو، تو مہر بالکل ساقط ہوجائے گا، کما ہو حکم سائر الفسوخ ۔

دوسری صورت کا حکم یہ ہے کہ اگر خاوند نے عورت کے دعوے کے خلاف کوئی بات ثابت نہیں کی تو عورت اس کو نہیں ملے گی،کیوں کہ عدت ختم ہونے کے بعد رجعت کا حق نہیں رہتا ۔(الحیلة الناجزة: ص/۱۳۳تا۱۳۷، احسن الفتاویٰ:۵/۴۱۳) (کتاب الفسخ والتفریق :ص /۵۶،مولانا عبد الصمدرحمانی) فقط

واللہ أعلم بالصواب

کتبه العبد: محمدجعفر ملی رحمانی ۔یکم شعبان المعظم ۱۴۲۹ھ 

اوپر تک سکرول کریں۔