غلطی سے زکوة زیادہ دیدینا

مسئلہ:

اگر کسی شخص کے ذمہ زکوٰة کی ادائیگی کی مقدار تھوڑی بنتی ہو، اور ا س نے غلطی سے زیادہ زکوٰة دیدی، تو اس کے لئے یہ گنجائش ہے کہ وہ اس زائد مقدار کو آئندہ سال کی زکوٰة میں شمار کرلے(۱)، اور اگر اس زائد مقدار کو نفلی صدقہ تصور کرے، اور آئندہ سال کی زکوٰة اپنے وقت پر الگ حساب لگاکر ادا کرے، تو بھی حرج نہیں، بلکہ یہ زیادہ فضیلت کا باعث ہے ۔(۲)

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما فی ” المحیط البرهانی “ : ولو کان عند رجل أربع مائة درهم، فظن أن عنده خمس مائة درهم فأدی زکوٰة خمس مائة درهم ثم ظهر أن عنده أربع مائة، فله أن یحتسب الزیادة للسنة الثانیة، لأنه أمکن أن یعجل الزیادة تعجیلاً ۔

(۴۴۵/۲، الفصل التاسع فی المسائل المتعلقة بمعطی الزکاة ، الفتاوی الهندیة:۱۷۶/۱، کتاب الزکاة ، قبیل الباب الثانی الفصل الأول ، البحر الرائق : ۳۹۲/۲،کتاب الزکاة ، زکاة الحملان والفصلان والعجاجیل)

(۲)ما فی ” صحیح البخاری “ :عن أبی هریرة قال : قال رسول الله ﷺ: ” من تصدق بعدل تمرة من کسب طیب ولا یقبل الله إلا الطیب ، فإن الله یتقبلها بیمینه ثم یربیها لصاحبه کما یربی أحدکم فلوَّه حتی تکون مثل الجبل “۔ (۱۸۹/۱، کتاب الزکاة، باب الصدقة من کسب طیب)

اوپر تک سکرول کریں۔