غیر مستحق طالبِ علم کازکوة کی رقم سے وظیفہ!

(فتویٰ نمبر: ۱۱۳)

سوال:

کسی غیر مستحقِ زکوة طالبِ علم کے لیے ایسی رقم سے وظیفہ لینا، جس میں غالبِ گمان زکوة کا ہو، ازروئے شرع اس کا کیا حکم ہے؟ جائز ہے یا ناجائز؟

الجواب وباللہ التوفیق:

اگر کوئی طالبِ علم نابالغ ہے اور اس کے والدین صاحبِ نصاب ہوں، تو اس طالب علم کے لیے اس طرح کا وظیفہ لینا شرعاً جائز نہ ہوگا، اور اگر اس کے والدین صاحبِ نصاب نہ ہوں تو جائز ہوگا، اور اگر وہ طالبِ علم بالغ ہے اور خود مال دار نہیں ہے،تو اس کے والدین صاحبِ نصاب ہوں یا نہ ہوں، بہر صورت اُس کے لیے اِس طرح کا وظیفہ لینا جائز ہوگا، اور اگر خود مال دار ہے تو لینا جائز نہ ہوگا۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : ولا إلی غني یملک قدر نصاب فارغ عن حاجته الأصلیة من أي مال کان ۔۔۔۔۔ ولا إلی طفله بخلاف ولده الکبیر۔(در مختار)۔

(۲۹۵/۳ ، ۲۹۶ ، ۲۹۸ ، کتاب الزکاة ، باب المصرف)

ما في ” مجمع الأنهر في شرح ملتقی الأبحر “ : ولا إلی غني یملک نصابًا من أي مال کان وعبده وطفله بخلاف ولده الکبیر ۔۔۔۔۔ یملک نصابًا من أي مال کان ۔۔۔۔۔ و هو ما فضل عن حوائجه الأصلیة ۔(۳۲۸/۱ ، ۳۲۹ ، کتاب الزکاة ، باب في بیان أحکام المصرف ، ط : بیروت) فقط

والله أعلم بالصواب

کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی ۔۱۴۲۹/۷/۱۱ھ 

اوپر تک سکرول کریں۔