مسئلہ:
غیر مسلم اپنی دیوی دیوتاوٴں کو خوش کرنے کی غرض سے ان کے لیے ناریل ،مٹھائیاں وغیرہ لاکر ان پر چڑھاتے ہیں، جسے بعد میں مندروں کے پجاری تبرکاً سب زائرین میں تقسیم کرتے ہیں، اسے وہ لوگ ”پرساد“ کہتے ہیں، جب کہ شریعتِ مطہرہ ہر ایسی چیزسے بچنے کا حکم دیتی ہے جو غیراللہ کے نام پر قربان کی گئی ہو، یا اس سے غیر اللہ کی خوشنودی مقصود ہو، لہٰذا کسی کو خوش کرنے کے لیے ، یا ہندوٴوں کی دیکھا دیکھی مسلمانوں کے لیے ایسی چیزوں کے استعمال سے احتراز لازم ہے۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿حرّمت علیکم المیتة والدم ولحم الخنزیر وما أهل لغیر الله به﴾۔ (سورة المائدة:۳)
ما في ” التفسیر الکبیر للرازي “ : الرابع : ما أهل لغیر الله به، والإهلال: رفع الصوت ۔۔۔۔۔ وکانوا یقولون عند الذبح بإسم الّلات والعزّی، فحرّم الله تعالی ذلک۔
(۲۸۳/۴، بیان القرآن:۱۰۸/۱، سورة البقرة: ۱۷۳، ط: اداره تالیفات اشرفیه چوک فواره ملتان پاکستان)
(فتاویٰ بنوریه، رقم الفتویٰ:۱۰۱۶۰)
