غیر مسلم مزدوروں سے مسجد کی تعمیر

مسئلہ:

بہتر اور افضل تو یہی ہے کہ اللہ کے مقدس اور پاکیزہ گھر کی تعمیر میں جہاں تک ہوسکے مسلمان انجینئر اور مسلمان مزدوروں سے کام لیا جائے، لیکن اس بات کی بھی اجازت اور گنجائش ہے کہ تعمیرِ مسجد میں غیر مسلم انجینئر یا غیر مسلم مزدوروں سے مدد لی جائے، اور ان سے اجرت ومعاوضہ دے کر کام کرایا جائے۔

الحجة علی ما قلنا :

ما فی ” التفسیر المنیر للزحیلي “ : والأصح أنه یجوز استخدام الکافر فی بناء المسجد والقیام بأعمال لا ولایة له فیها کنحت الحجارة والبناء والنجارة، فهذا لا یدخل فی المنع المذکور فی الآیة، إنما المنع موجه إلی الولایة علی المساجد والاستقلال بالقیام بمصالحها مثل تعیینه ناظر المسجد أو ناظر أوقافه، وقیل: إن الکفار ممنوعون من عمارة مساجد المسلمین مطلقاً۔ (۴۸۸/۵۔۴۸۹)

(معارف القرآن: ۳۳۱/۴، فتاوی دارالعلوم دیوبند :۵۵/۱۴، امداد الفتاوی :۶۶۵/۲)

اوپر تک سکرول کریں۔