مسئلہ:
بسا اوقات کسی مسلم کا پڑوسی غیر مسلم ہوتا ہے، مسلمان – پڑوسی کے حقوق کا خیال رکھتے ہوئے عید کے موقع پر اپنے گھر میں بنی ہوئی چیز اُس کے گھر بھیجتا ہے، اور غیر مسلم پڑوسی بھی اپنے تہوار کے موقع پر جو کچھ اپنے گھر پر بناتا ہے، اپنے مسلم پڑوسی کے یہاں بھیجتا ہے، اس چیز کے متعلق اگر یہ یقین واطمینان ہو کہ وہ دیوی دیوتا کے نام چڑھائی ہوئی نہیں ہے، اور نہ ناپاک وحرام چیز اس میں شامل ہے، تو اس کو کھاسکتے ہیں۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” الفتاوی الهندیة “ : ولا بأس بطعام المجوس کله إلا الذبیحة فإن ذبیحتهم حرام ۔
(۳۴۷/۵، کتاب الکراهیة، الباب الرابع عشر في أهل الذمة والأحکام التي تعود إلیهم، المحیط البرهاني:۱۰۳/۶، کتاب الاستحسان والکراهیة، الفصل السادس عشر في معاملة أهل الذمة، البحر الرائق:۳۳۷/۸، کتاب الکراهیة، فصل في الأکل والشرب)
(فتاویٰ دار العلوم دیوبند، رقم الفتویٰ: ۴۲۹۴۱)
