فقراء نماز چھوڑنے کی وعید سے بری نہیں!

مسئلہ:

بہت سے مسلمان فقراء (بھکاری) نمازوں کے اوقات میں مسجدوں کے باہر ڈیرہ جمالیتے ہیں، اور صرف بھیک مانگتے ہیں، ذی ہوش وحواس ہونے کے باوجود نماز نہیں پڑھتے، اور یہ سمجھتے ہیں کہ آخرت میں ہمارا موٴاخَذہ نہیں ہوگا، بلکہ درگذر اور معافی ہوجائیگی، حالانکہ نماز کے چھوڑنے پر جو وعید ِ شدید ، عذابِ الیم اور مُوٴاخذہ نصوص یعنی قرآن وحدیث میں وارد ہے، اُس سے ذی ہوش وحواس فقراء (بھکاری)بَری نہیں ہوسکتے۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” مشکوة المصابیح “ : عن عبد الله بن عمرو بن العاص رضي الله عنه عن النبي ﷺ  أنه ذکر الصلاةَ یومًا فقال: ” مَن حافظ علیها کانت له نورًا وبرهانًا ونجاةً یوم القیامة، ومن لم یُحافظ علیها لم تکن له نورًا ولا برهانًا ولا نجاةً، وکان یوم القیامة مع قارون وفرعون وهامان وأبيّ بن خلف “۔رواه أحمد والدّارمي والبیهقي في شعب الإیمان۔

وعن عبد الله بن شقیق قال: ” کان أصحاب رسول الله ﷺ لا یرون شیئًا من الأعمال ترکه کفر غیر الصلاة “ ۔ رواه الترمذي ۔

وعن أبي الدرداء رضي الله عنه قال: ” أوصاني خلیلي أن لا تشرک بالله شیئًا وإن قُطِّعتَ وحُرِّقتَ، ولا تترُکْ صلاة مکتوبةً متعمّدًا، فمن ترکها متعمّدًا فقد برئتْ منه الذّمّةُ، ولا تشرب الخمر فإنها مفتاح کلّ شرّ “ ۔ رواه ابن ماجة ۔(ص:۵۸۔۵۹، کتاب الصلاة، قبیل باب المواقیت، الفصل الثالث)

(فتاویٰ دار العلوم دیوبند: ۲۲۸/۱۸۔۲۲۹، مکتبہ دار العلوم دیوبند)

اوپر تک سکرول کریں۔