فقیر کو پھٹے پرانے نوٹ دینا

مسئلہ:

بعض لوگوں کے پاس پھٹے پرانے نوٹ آتے ہیں، تو وہ ان کو بحفاظت رکھتے ہیں اور جب کوئی غریب/ فقیر اُن سے سوال کرتا ہے، تو اسے یہی پھٹے پرانے نوٹ دے دیتے ہیں، یہ اچھی بات نہیں ہے، غریبوں کی امداد اچھے اور صحیح سالم نوٹ دے کر کرنا چاہیے، کیوں کہ ہمیں یہ حکم ہے کہ اللہ کے راستہ میں جو مال دیا جائے وہ اچھا اور صحیح سالم ہونا چاہیے(۱)، اِن غریبوں اور محتاجوں کو حقیر وذلیل سمجھ کر اِنہیں اس طرح کی نوٹیں دینا- اِس حکم کی خلاف ورزی ہے، نیز یہ بات یاد رکھیں کہ اِن غریبوں کا ہم پر بڑا احسان ہے، وہ یہ کہ اِنہی کی وجہ سے ہم کو رزق ملتا ہے، اور مال بھی(۲)، اگر دنیا میں غریب ومحتاج نہ ہوں، تو مالداروں کو مال بھی نہ ملے اور نہ رزق، البتہ پیشہ ور فقیر اس حکم میں داخل نہیں، کیوں کہ ان کو دینا گناہ میں داخل ہے۔(۳)

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿لن تنالوا البرّ حتی تنفقوا مما تحبون﴾ ۔ (آل عمران:۹۲)

ما في ” روح المعاني “ :وفي المراد من قوله سبحانه:(ما تحبون)أقوال،فقیل:المال وکنی بذلک عنه،لأن جمیع الناس یحبونه،وقیل:نفائس الأموال وکرائمها۔(۳۵۹/۳)

(۲) ما في ” صحیح البخاري “ : عن مصعب بن سعد قال: رآی سعد رضي الله عنه أن له فضلا علی من دونه، هل تنصرون وترزقون إلا بضعفائکم۔

(۴۰۵/۱، کتاب الجهاد، باب من استعان بالضعفاء والصالحین في الحرب، رقم الحدیث:۲۸۹۶)

ما في ” سنن أبی داود “ : عن جبیر بن نفیر الحضرمي أنه سمع أبا الدرداء یقول: سمعت رسول الله ﷺ یقول: ” ابغوا لی الضعفاء فإنما ترزقون وتنصرون بضعفائکم “۔

(ص:۳۴۹، کتاب الجهاد، باب في الانتصار برذل الخیل والضعفة، رقم الحدیث:۲۵۹۴)

(۳) ما في ” التنویر وشرحه مع الشامیة “ : ولا یحل أن یسأل شیئًا من القوت من له قوت یومه بالفعل أو بالقوة کالصحیح المکتسب ویأثم معطیه إن علم بحاله لإعانته علی المحرّم۔ (۳۰۵/۳۔۳۰۶ ، کتاب الزکاة، باب المصرف، مطلب في الحوائج الأصلیة)

 (فتاویٰ دار العلوم دیوبند، رقم الفتویٰ :۳۲۲۸۵)

اوپر تک سکرول کریں۔