(فتویٰ نمبر: ۵۶)
سوال:
۱-کیا کوئی مسلمان فلمی ادارے میں اپنا ذریعہٴ معاش اختیار کرسکتا ہے یانہیں؟
۲-وہ فلم جس میں عریانیت کا ظہور ہوتا ہو اس کو دیکھنا اور دکھانا کیسا ہے؟
۳-وہ فلم جس میں موسیقی(Music)، سرنگی، ڈھول ، بانسری بجائی جاتی ہو۔
۴-فلم سازی کرنا، خواہ کسی بھی نوعیت کی ہو۔
۵-وہ فلم جس میں قصہٴ اسلامی کے کسی حصے کی فلم سازی کی گئی ہو۔
۶-اور جس میں صحابیٴ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی ادا کو دہرایا گیا ہو، جیسا کہ فلم ”الرسالة“ ۔
۷-فلم ”الرسالة“ کو دیکھنا اور دکھانا کیسا ہے ؟
الجواب وباللہ التوفیق:
۱-فلم سازی (بنانا، بنوانا) دیکھنا، دکھانا ناجائز وحرام ہے، لہٰذا ا س کو ذریعہٴ کسب ومعاش بنانا اور اس کے ذریعہ پیسہ حاصل کرنا بھی ناجائز ہے۔(۱)
۲-ناجائز اور حرام ہے، علامہ تھانوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :” اگر تصویر کسی مشتہات کی ہو، تو نظرِ بد کی معصیت کا اس میں اور اضافہ ہوجاتا ہے، اور تصویر پر تو صاحبِ تصویر کی پوری حکایت ہے، اجنبیہ کے تو کپڑے کو بھی بد نفسی سے دیکھنا حرام ہے، اور فلموں میں توحد سے زیادہ عریانیت اور فحاشی کا ظہور ہوتا ہے، لہٰذا فلمیں دیکھنا اور دکھانا بدرجہٴ اَولیٰ ناجائز وحرام ہوگا، کیوں کہ اس میں تصاویرِ محرّم موجود ہیں، اورشئ محر ّم سے انتفاع اور تلذُّذ بھی ناجائز ہے“ ۔(۲)
۳-فلم بینی مطلقاً فی نفسہ ناجائز ہے، چہ جائے کہ وہ جس میں موسیقی،سرنگی، ڈھول اور بانسری بجائی جاتی ہو، جو اس کے قبح کو اور بڑھادیتا ہے ۔(۳)
۴-فلم سازی خواہ کسی بھی نوعیت کی ہو،ناجائز ہے ۔(۴)
۷/۶/۵-فلم بنانا ، دیکھنا اور دکھانا فی نفسہ مطلقاً ناجائز وحرام ہے، اور جب اس فلم میں واقعات وشخصیاتِ اسلام کو فرضی کرداروں کے ساتھ فلمایا گیا ہو، جیسے فلم ”الرسالة“ یعنی ”دمیسیج آف اسلام“ (The Massage Of Islam) تو اس کی برائی اور بڑھ جاتی ہے، کیوں کہ یہ اسلام اور تاریخِ اسلام کے ساتھ انتہائی بد ترین وسنگین قسم کا مزاق ہے۔(۵)
شریعت نے جن چیزوں کو حرام قرار دیا ان کے اسباب وذرائع کو بھی حرام قراردیا، کیوں کہ کسی بھی شئ کی حرمت اسی وقت قائم رہ سکتی ہے، جب اس کے وسائل وذرائع بھی حرام وممنوع قرار دیے جائیں۔(۶)
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿یٰأَیَّها الرُّسُلُ کُلُوْا مِنَ الطِّیِّبَاتِ وَاعْمَلُوْا صَالِحًا﴾ ۔(سورة الموٴمنون : ۵۱)
ما في ” الجامع لأحکام القرآن للقرطبي “ : سوی اللّٰه تعالی بین النبیین والموٴمنین في الخطاب بوجوب أکل الحلال وتجنّب الحرام ۔ (۱۲۸/۱۲)
ما في ” القرآن الکر یم “ : ﴿یٰأَیُّها الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تَأْکُلُوٓا أَمْوَالَکُمْ بَیْنَکُمْ بِالْبَاطِلِ﴾ ۔ (سورة النساء : ۲۹)
ما في ” البحر المحیط لأبي حیان الغرناطي “ : والباطل هوکل طریق لم تبحه الشریعة ، فیدخل فیه السرقة ، والخیانة ، والغصب ، والقمار ، وعقود الربا ، وأثمان البیاعات الفاسدة ۔ (۳۲۲/۳)
ما في ” مشکوة المصابیح “ : (عن أبي بکر أن رسول اللّٰه ﷺ) قال : ” لا یدخل الجنة جسد غذي بالحرام “ ۔ رواه البیهقي في شعب الإیمان ۔
(ص/۲۴۳ ، باب الکسب وطلب الحلال ، الفصل الثالث)
وما في ” مشکوة المصابیح “ : وعن عبد اللّٰه – رضي اللّٰه عنه – : ” طلب کسب الحلال فریضة بعد الفریضة “ ۔ رواه البیهقي في شعب الإیمان ۔
(ص/۲۴۲ ، باب الکسب وطلب الحلال)
ما في ” الفتاوی الهندیة “ : ولا تجوز الإجارة علی شيء من الغناء والنوح والمزامیر والطبل ، وشيء من اللهو ، وعلی هذا الحداء وقراء ة الشعر وغیره ، ولا أجر في ذلک ، وهذا کله قول أبي حنیفة وأبي یوسف ومحمد رحمهم اللّٰه تعالی، کذا في غایة البیان ۔
(۴۴۹/۴ ، کتاب الإجارة ، الفصل الرابع في فساد الإجارة ، الفتاوی البزازیة علی هامش الفتاوی الهندیة : ۴۱/۵ ، باب المتفرقات)
ما في ” الدر المختارمع الشامیة “ : لا تصح الإجارة لعسب التیس ۔۔۔۔۔۔۔ ولا لأجل المعاصي مثل الغناء والنوح والملاهي ۔ (در مختار) ۔ وفي الشامیة : والملاهي ، کالمزامیر والطبل ۔ (۷۵/۹ ، کتاب الإجارة ، باب الإجارة الفاسدة ، مطلب في الاستئجار علی المعاصي ، ط : دار الکتب العلمیة بیروت)
(۲) (إمداد الفتاویٰ :۲۶۰/۴،ملخصًا)
ما في ” جمهرة القواعد الفقهیة “ : ” فعل ما یحرم ترکه واجب “ ۔ ” الانتفاع بالمحرم حرام “ ۔ (۱۱۱۵/۳ ، ۱۱۱۶)
(۳/۴) ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْتَریْ لَهوَ الْحَدِیْثِ﴾ ۔ (سورة لقمان : ۶)
ما في ” رد المحتار “ : وجاء في التفسیر أن المراد الغناء ۔ (۵۰۲/۹)
ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : قال الحصکفي : وفي المعراج : ودلت المسألة أن الملاهي کلها حرام ، قال ابن مسعود : ” صوت اللهو والغناء ینبت النفاق في القلب کما ینبت الماء النبات “ ۔ (در مختار) ۔ (۵۰۲/۹ ، کتاب الحظر والإباحة)
ما في ” کنز العمال “ : ” الغناء ینبت النفاق في القلب کما ینبت الماء البقل “ ۔ (ابن أبي الدنیا في ذم الملاهي عن ابن مسعود) ۔(۹۵/۱۵ ، رقم : ۴۰۶۵۱)
ما في ” مجمع الزوائد “ : عن أنس بن مالک قال : قال رسول اللّٰه ﷺ : ” صوتان ملعونان في الدنیا والآخرة : مزمار عند نعمة ، ورنة عند مصیبة “ ۔
(۷۵/۳ ، کنز العمال : ۹۵/۱۵)
(۵) ما في ” شرح الفقه الأکبر “ : من استخف بالقرآن أو المسجد أو بنحوه مما یعظم في الشرع کفر ۔ (ص/۱۶۷ ، فصل في القراء ة والصلاة)
(۶) ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿وَلاَ تَسُبُّوا الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰه فَیَسُبُّوا اللّٰه عَدْوًا بِغَیْرِ عِلْمٍ﴾ ۔ (سورة الأنعام : ۱۰۹)
ما في ” المقاصد الشرعیة “ : إن الوسیلة أو الذریعة تکون محرمة إذا کان المقصد محرمًا ، وتکون واجبةً إذا کان المقصد واجبًا ۔ (ص/۴۶)
ما في ” اعلام الموقعین “ : وسیلة المقصود تابعة للمقصود وکلاهما مقصود ۔ (۱۷۵/۳)
ما في ” الأشباه والنظائر لإبن نجیم الحنفي “ : الأمور بمقاصدها ۔ (۱۱۳/۱) فقط
والله أعلم بالصواب
کتبه العبد : محمد جعفر ملی رحمانی۔۱۴۲۹/۴/۱۵ھ
الجواب صحیح: عبد القیوم اشاعتی ۔۱۴۲۹/۴/۱۵ھ
