مسئلہ:
فلم بنانا ،دیکھنا اور دکھانا فی نفسہ مطلقاً ناجائز وحرام ہے، اور جب اس فلم میں واقعات وشخصیاتِ اسلام کوفرضی کرداروں کے ساتھ فلمایا گیا ہو ،جیسے فلم ” الرسالة “ یعنی دَ میسیج آف اسلام (The Message Of Islam)تواس کی برائی اوربڑھ جاتی ہے، کیوں کہ اسلام اورتاریخِ اسلام کے ساتھ یہ انتہائی بد ترین وسنگین قسم کا مذاق ہے ،اور شریعت نے جن چیزوں کو حرام قرار دیا ، ان کے اسباب وذرائع کو بھی حرام قرار دیا۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” القرآن الکریم “ : قو له تعالیٰ : ﴿ولا تسبوا الذین یدعون من دون الله فیسبوا الله عدوًا بغیر علم﴾ ۔ (سورة الأنعام : ۱۰۸)
ما في ” المقاصد الشرعیة “ : إن الوسیلة أو الذریعة تکون محرمة إذا کان المقصد محرماً ، وتکون واجبة إذا کان المقصد واجباً ۔
(ص/۴۶ ، اعلام الموقعین : ۱۷۵/۳ ، الأشباه لإبن نجیم :۱/ ۱۱۳)
